http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 16 March, 2007, 21:41 GMT 02:41 PST

صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

نندی گرام: ہڑتال سے زندگی مفلوج

نندی گرام میں کسانوں کے مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ سے ہوئی ہلاکتوں کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر جمعہ کو مغربی بنگال میں نظامِ زندگی مفلوج رہا۔

نندی گرام میں پولیس کی فائرنگ سے چودہ افراد ہلاک اور تقریباً ستر زخمی ہوئے تھے۔

ہڑتال کے پیشِ نظر حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے۔ ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر ریاست کے دارالحکومت کولکتہ میں پڑا جہاں سرکاری دفاتر کے ساتھ ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں بند رہیں۔ سکول اور دیگر تعلیمی ادارے نہیں کھلے اور جمعہ کو ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔

کوکلکتہ میں میں بی بی سی کے نامہ نگار سوبیر بھومک کے مطابق ہڑتال کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان نے بعض بسوں کو نذر آتش کیا اور پولیس نے ہنگامہ کرنے والے دو سو سے زائد کارکنوں کوگرفتار بھی کر لیا۔

مغربی بنگال کے نندی گرام علاقے کے کسان بدھ کے روز مجوزہ کیمیائی صنعت کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کی تجویز کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے تبھی پولیس نے بے قابو بھیڑ پر فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں چودہ افراد ہلاک اور ستّر زخمی ہوئے تھے۔ کولکتہ ہائی کورٹ نے اس واقعے کی سی بی آئی سے تفتیش کرانے کے احکامات دیے ہیں۔

گزشتہ سات جنوری کو بھی نندی گرام میں چھ افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس نے مجوزہ ایس ای زیڈ کے لیےالاٹ کی گئی زمین پر کسانوں کے جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس سے قبل ریاست میں ایک نجی کمپنی ٹاٹا موٹرز کو کار بنانے کے لیے سینگورعلاقہ میں زرعی زمین الاٹ کرنے پر ریاستی حکومت کو زبردست مخالف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔