Thursday, 15 March, 2007, 06:54 GMT 11:54 PST
ہندوستان کی مرکزی ریاست چھتیسگڑھ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں نے ایک پولیس چوکی پر منظم حملہ کر کے کم از کم پچاس پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔
ریاستی پولیس چیف اوپی راتھور نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک چوبیس پولیس اہلکار کی لاشیں بر آمد کی جا چکی ہیں۔
ریاست کے وزیر داخلہ رام وچار نیتم نے بتایا کہ اپنے خفیہ ٹھکانوں تک رسائی ناممکن بنانے کے لیے ماؤ باغیوں نے ضلع بیجاپور کے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں۔
خدشہ ہے کہ اس حملے ميں ہلاک ہونے والوں کی تعدا میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ جس وقت حملہ کیا گيا تھا اس وقت پولیس چوکی میں پچھتر پولیس اہلکار موجود تھے۔
ہتھیار سے لیس ماؤ باغیوں نے جمعرات کی رات دو بجے دنتے واڑہ ضلع کے بیجا پور علاقے میں واقع رانی بوہلی پولیس چوکی پر اندھا دھند فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے جس سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ہندوستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ سری پرکاش جیسوال نے ایوان میں اس حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ریاستی پولیس کو بھیج دیا گیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو سینٹرل ریزرو پولیس فورس بھی بھیجی جائے گی۔
دنتے واڑہ ضلع ماؤ نواز باغیوں کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے اور ریاست کے سولہ میں سے آٹھ اضلاع میں ماؤ نواز باغیوں کا خاصا اثر ہے۔
اس خطے میں گزشتہ چالیس سال سے ماؤ باغی علیحدگی پسندی کی تحریک
چلا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی زمین سے بے دخل کیے جانے والے کسانوں اور نظر انداز کیے جانے والے قبائل کے حقوق کے حصول کے لیے ہے۔
گزشتہ سال وزیراعظم منموہن سنگھ نے ماؤ باغیوں کو ملک کی داخلی سکیورٹی کے لیے واحد سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
انڈیا کی مرکزی اور جنوبی ریاستوں میں پچھلے چالیس سال میں ماؤ نواز باغیوں کی کارروائیوں میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔