http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 12 March, 2007, 21:20 GMT 02:20 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی

ممبئی دھماکوں کے مقدمے میں نیا موڑ

بارہ مارچ انیس سو ترانوے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کو چودہ برس ہو چکے ہیں۔ ان دھماکوں کی سماعت کرنے والی خصوصی ٹاڈا عدالت میں سوموار کا دن بہت خاص تھا کیونکہ سزاپانے والے 69 افراد کی اپیلوں نے عدالت اور اس کی کارروائی کو ایک نیا موڑ دے د یا۔

سنجے دت کے بعد متعدد اپیلیں

عدالت میں سوموار کو اپیل کرنے والوں کی طرف سے سپریم کورٹ کے وکیل آن ریکارڈ، مشتاق احمد پیش ہوئے۔ مسٹر احمد نے خصوصی جج پرمود دتاتریہ کوڈے سے کہا کہ ابھی تک اپیل کرنے والوں کی سزاؤں پر جج کے دستخط نہیں ہوئے ہیں اس لیے عدالت کو سزا کے معاملہ میں رد و بدل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مسٹر احمد نے اپنی جرح شروع کرتے ہوئے کہا کہ اپیل کرنے والے بم دھماکے کے ایک اور سزایافتہ سنجے دت کی ہی طرح حالات کے ستائے ہوئے ہیں۔ بابری مسجد منہدم کر دی گئی اور اس کے بعد ممبئی میں بڑے پیمانے پر جو فسادات ہوئے ان میں پولیس نے جانبدارانہ رویہ اپنایا۔

مسٹر احمد نے اپنی جرح میں کہا کہ ان فسادات میں تقریبا ہر سزایافتہ نے اپنے کسی نہ کسی عزیز کو کھو دیا تھااس لیے ان پر ٹاڈا کی دفعہ تین عائد نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ سب عادی مجرم نہیں تھے۔
 سنجے دت
جس روز سے سنجے دت کی اپیل عدالت میں داخل ہوئی ہے تب سے دیگر سزایافتہ لوگوں کے رشتہ داروں نے عدالت کے باہر مظاہرے شروع کر دیے ہيں

اپنی جرح کے دوران ایڈوکیٹ احمد نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی مثال دی کہ جب تک اسلحہ ملزم کے پاس نہیں ملتا وہ مجرم نہیں ہو سکتا اور اس کیس میں پولیس کو اسلحے اور دھماکہ خیز اشیاء کہیں اور سے ملے۔ انہوں نے اپنی جرح میں یہ بھی کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں کے پاس مذکورہ افراد کے خلاف راست ثبوت نہیں تھے بلکہ انہوں نے دیگر ملزمان کے بیانات کو بنیاد بنایا ہے۔

یہ جرح منگل کو بھی جاری رہے گی اور اس کے بعد سی بی آئی کے وکیل اجول نگم اپنا موقف پیش کریں گے۔

اسی کے ساتھ قانونی ماہرین میں ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا عدالت اس موڑ پر جب کہ اب صرف سزا کا تعین باقی ہے، اس کیس کو نئے سرے سے تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت سنے گی۔

ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ پورے کیس کی بنیاد ہی ٹاڈا ہے اگر یہ اپیل پہلے داخل کی جاتی اور اسے چیلنج کیا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ کیس کی بنیاد ہی ٹاڈا ہے جس میں ساتھی ملزمان کی گواہیوں اور اقبالیہ بیانات کو قبول کیا جاتا ہے۔

ایک وکیل نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ اس سٹیج پر اب یہ ممکن نہیں لگتا لیکن ہو سکتا ہے کہ عدالت سزاؤں کا تعین کرتے ہوئے کچھ رحم دلی برتے۔

مسٹر احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو دلائل پیش کیے ہیں ان کی روشنی میں انہیں یقین ہے کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے گی۔