Monday, 12 March, 2007, 22:59 GMT 03:59 PST
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چوتھے دور کے مذاکرات منگل کو اسلام آباد میں شروع ہو رہے ہیں۔
مشترکہ مذاکرات میں ہندوستان کی سربراہی خارجہ سکریٹری شیوشنکر مینن کریں گے اور وہ پیر کی شام اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔
وزرات خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے مذاکرات کے اس دور میں دونوں ملکوں میں امن، تحفظ، اور جموں اور کشمیر کے علاوہ بحالیِ اعتماد پر بات چیت ہوگی۔
سفارتی حلقوں میں خیال کیا جارہا ہے کہ ان مذاکرات ميں ہندوستان پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔
مقامی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وزارت خارجہ کے سکریٹری سطح پر ہونے والے ان دو روزہ مذاکرات میں جن موضوعات پر بات چیت ہونے کے امکانات ہیں ان میں سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان ٹرک سروس کی بحالی، عام افراد کے لیے ویزا کی فراہمی کوآسان بنانا اور پاکستان کی جیلوں میں قید بھارتی ماہی گیروں اور عام قیدیوں کی رہائی اہم ہیں۔
بات چیت کے ممکنہ موضوعات |
تاہم ہندوستان کا موقف رہا ہے کہ جب تک ہندوستان کے زیر انتظام جموں اور کشمیر میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا فوج کی انخلا کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔