Wednesday, 07 March, 2007, 09:35 GMT 14:35 PST
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے نٹھاری قتل کیس کی سماعت دلی منتقل کرنے کی اپیل خارج کر دی ہے۔
قتل مقدمے کے اہم ملزم منندر سنگھ پندھیر کے بیٹے کرن دیپ سنگھ نے
عدالت سے درخواست کی تھی انہیں اپنے والد سے ملاقات کرنے کی
اجازت دی جائے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ریاست اترپردیش کے موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر غیر جانب دار سماعت کی امید نہیں کی جا سکتی ہے اس لیے مقدمے کی سماعت دلی منتقل کر دی جائے تاہم سپریم کورٹ نے یہ درخواست مسترد دی۔
گزشتہ برس دسمبر میں نٹھاری قتل کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا اور امکان ہے
کہ اس واقعہ میں بیس سے زائد بچوں اور عورتوں کا جنسی زیادتی کے بعد بیہمانہ قتل کیا گيا ہے۔
دوسری جانب نٹھاری قتل کیس سامنے آنے کے بعد بچوں اور عورتوں کے گمشدگی اور سمگلنگ کو روکنے کے لیے حکومت مناسب اقدام کے طور پرموجودہ قانون میں تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
بعض ارکان پارلیمان ایسے معاملات کو مرکزی قانون کے دائرۂ اختیار میں لائے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
وقفۂ صفر میں بعض ارکانِ پارلیمان نے بحث کے دوران کہا کہ ایسے واقعات ان لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جو نقل مکانی کر کے دیگر شہروں میں جاتے ہیں اور مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ عام طور پر پولیس بھی ان کے ساتھ تفریق برتتی ہے اور ان کے معاملات کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ لہذا حکام کو جوابدہ بنانے کے لیے ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے اس قسم کے واقعات کی نگرانی اور احتسابی عمل کو مستحکم بنایا جا سکے۔