Tuesday, 06 March, 2007, 10:42 GMT 15:42 PST
سبیر بھومک
کولکتہ
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ چھ برس سے بھوک ہڑتال پر بیٹھی اروم شرمیلا چنو کو زبردستی کھانا کھلانا شروع کر دیا ہے۔
اروم شرمیلا ریاست میں مسلح افواج کو ’ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ‘ کے تحت دیے جانے والے خصوصی اختیارات کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔
گزشتہ پانچ مہینے دلی میں گزارنے کے بعد وہ واپس منی پوری چلی گئيں۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے دلی سے امپھال پہچنے پر پولیس نے اروم شرمیلا کو گرفتار کرلیا تھا۔
شرمیلا کو ایک بار پھر ہسپتال میں داخل کر دیا گيا ہے اور انہیں حفاظتی دستے کے حوالے کرنے کے بعد جواہر لعل نہرو ہسپتال کے ایک سپیشل وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا ’ہمیں انہیں زبردستی کھانا کھلانا ہوگا ورنہ ان کی موت ہوجائے گی۔‘
![]() | |
| مذکورہ ایکٹ کے خلاف اور لوگ بھی احتجاج کرتے رہے ہیں |
شرمیلا کی بھوک ہڑتال آسام رائفل کے نیم فوجی دستے کے ہاتھوں امپھال کے نزدیک میلوم میں سنہ دو ہزار میں دس افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔
شرمیلا کی بھوک ہڑتال کا ریاست کے حالیہ اسمبلی انتخابات پرکوئی اثر نہیں ہوا ہے کیونکہ ان انتخابات میں مسلح افواج کو دیے جانے والے خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی مقامی سیاسی جماعت منی پور پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی ہے۔ جیتنے والی جماعت کانگریس نے اس مسئلے کو انتخاب کے دوران نظر انداز کیا تھا۔ یہاں تک کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی اس مسئلہ پر منی پور میں انتخابی ریلی کے خطاب کے دوران کچھ بھی کہنے سے گريز کیا تھا۔
خصوصی اختیارات ایکٹ |
دو ہزار چار میں تھانگ جام منورمہ کے مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے بعد ریاست میں زبردست احتجاج ہوا تھا جس کے بعد مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج ایل جیون ریڈی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں فوج کو ملنے والے خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن حکومت حفاظتی اہلکاروں کے دباؤ میں اس سفارش کو قبول نہیں کر رہی ہے۔
وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اس ایکٹ کو ہٹانے سے انکار کیا اور کہا کہ اگر اسے ہٹایا گیا تو دہشت گردانہ کارروئی پر قابو پانا مزید مشکل ہوجائے گا۔