Monday, 05 March, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
جھارکھنڈ کے سٹیل سٹی جمشیدپور سے بھارتی پارلیمان کے ممبر سنیل مہتو کی نکسلی حملے میں ہلاکت نے اس بحث کو پھر تازہ کر دیا ہے کہ آخر ماؤ نواز تحریک کے سامنے پولیس کیوں ناکام ہو جاتی ہے؟
یہ سوال ہر بڑے نکسلی حملے کے بعد اٹھایا جاتا ہے اور ہر بار اس کی مختلف وجوہ بیان کی جاتی ہیں۔ایسے تمام حملوں کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ پولیس ہتھیاروں سے مقابلہ کرتی ہے لیکن حکمت عملی میں مار کھا جاتی ہے۔
جھارکھنڈ میں ماؤ نواز تحریک نے زیادہ تر پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ ریاستی پولیس کے ایس پی اور نیم فوجی دستے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے جوان بھی نکسلی حملے میں مارے گئے ہیں۔اس کے علاوہ دور افتادہ علاقوں میں ٹرینوں کو بھی نکسلیوں نے شکار بنایا ہے۔
ایسے تمام حملوں کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ اپنی چال پوشیدہ رکھنے اور نکسلیوں کی نقل و حرکت کی اطلاعات حاصل کرنے میں پولیس پوری ناکام تھی۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ مدھو کوڑا نے اس ہلاکت کی مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے تفتیش کرانے کا اعلان کیا ہے۔ان کے مطابق سنیل مہتو پر حملہ کرنے والے ماؤ نواز عام شہریوں کے لباس میں تھے، اس لیے انہیں پہچانا نہیں گیا۔
نکسل تحریک کے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ماؤ نواز آمنے سامنے ہو کر جنگ تو کرتے نہیں اس لیے ان سے کھلے طور پر حملہ نہ کرنے کی شکایت دراصل اس بات کا مظہر ہے کہ نکسلی تشدد سے نمٹنے کی تیاری کتنی کمزور ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اقتدار بدلنے کے باوجور نکسلی تشدد میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
نکسلی حملے کا وقت |
نکسلیوں کے حملے کا وقت عام طور پر شام کا یا اس کے بعد کا ہوتا ہے۔ نکسلی اپنے حملے کے لیے ایسے مواقع کا انتخاب کرتے ہیں جب پولیس کسی اور مسئلے سے نمٹنے میں مصروف ہوتی ہے۔
ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جے مہاپاترا کے مطابق جس علاقے میں سنیل مہتو پر حملہ کیا گیا ہے وہ مغربی بنگال اور اڑیسہ کی سرحد پر واقع ہے۔
اس علاقے کے دور افتادہ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جائے وقوعہ سے جمشید پور کا فاصلہ پینتالیس کلو میٹر ہے لیکن وہاں تک سنیل مہتو کو لانے میں تین گھنٹے لگ گئے۔
سابق مرکزی وزیر شیبو سورین کی پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ سے تعلق رکھنے والے سنیل مہتو کو اس دن قتل کیا گیا جب کہ وزیر اعلیٰ مدھو کوڑا کے ساتھ پوری ریاست ہولی کے جشن میں مگن تھی۔
جھارکھنڈ کے نائب وزیراعلیٰ سٹیفن مرانڈی کہتے ہیں کہ حکومت ان لوگوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرتی ہے جو نکسلیوں کی ہٹ لسٹ میں ہوتے ہیں مگر سنیل مہتو کے بارے میں ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی۔
تشدد ایک معاشی مسئلہ |
جمشید پور سے متصل رانچی کے پارلیمانی حلقے کے نمائندے اور مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے کہتے ہیں کہ نکسلی تشدد صرف نظم و نسق کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مرکز نے نکسلی تشدد سے نمٹنے کے لیے اینٹی لینڈ مائن گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر تک فراہم کیے ہیں لیکن جب مسئلہ معاشی طبقات کے درمیان ہو تو اس کے لیے معاشی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ریاست کے ایک اور سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی کہتے ہیں کہ اس طرح کے حملے سے بچنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو نکسلیوں سے نمٹنے کے عمل میں شامل کیا جائے۔
بابو لال کے مطابق مقامی لوگ پولیس کو اس لیے کوئی اطلاع نہیں دینا چاہتے کہ اس کے بعد خود ان کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ ممکن نہیں کہ بڑی تعداد میں نکسلی گاؤں میں جائیں اور مقامی لوگوں کو اس کا پتہ نہ ہو۔