Sunday, 04 March, 2007, 13:33 GMT 18:33 PST
حریت کانفرنس کے معتدل دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ اگر بھارت کشمیر سے فوجی انخلاء پر رضا مند نہیں ہوتا تومسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کا رخ ایسے راستے کی طرف ہو جائے گا جہاں سے آگے جانا ممکن نہ ہو۔
ہندوستانی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ کشمیر سے فوج کا انخلاء قیاس آرائی ہے، میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی اردو سروس کی نعیمہ احمد مہجور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بیان کا مطلب یہ ہوگا کہ آگے جانے کا کوئی سکوپ نہیں ہے‘۔
تاہم کشمیری رہنما نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ منموہن سنگھ کے کشمیر سے فوجوں کی واپسی سے متعلق بیان کا تعلق ہندوستان میں آج کل ہونے والے ریاستی انتخاب سے ہو۔ ’یو پی میں الیکشن ہو رہا ہے اور پنجاب اور اتراکھنڈ میں حکمراں کانگریس پارٹی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ وزیرِ اعظم اپنی پوزیش پر واپس جا رہے ہوں۔‘
حریت کانفرنس کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے کشمیری قیادت سے بڑی سنجیدگی سے بات چیت کی ہے اور وہ انڈیا سے بھی ڈائیلاگ کر رہی ہے۔ کشمیری رہنما نے وثوق سے کہا کہ دونوں ملک کچھ اشوز پر متفق بھی ہیں اور مرحلہ وار انخلاء پر کم و بیش اتفاق ہو چکا ہے۔
تاہم میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ہندوستانی حکومت یہ کہتی ہے کہ فوجی انخلاء ممکن نہیں تو ’ظاہر ہے میں نہیں سمجھتا کہ آگے چلنے کا کوئی اور طریقہ ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کا مدار اسی معاملے پر ہے۔ ’اگر ہندوستانی حکومت کشمیر سے فوجی انخلاء نہیں کرتی تو پھر سارا امن عمل ہی اس طرف چل پڑے گا جہاں سے آگے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ تمام تر امیدیں اسی پر ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ڈائیلاگ جاری ہے اور دونوں کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی ہو رہی ہے۔‘
اس سوال پر کہ آیا وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے بیان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مصالحت کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں، کشمیری رہنما نے کہا کہ وہ ایسا نہیں سمجھتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیش رفت کی ذمہ داری ہندوستان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ کشمیری قیادت اور پاکستانی حکومت کا طرزِ عمل کافی لچکدار ہے۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کیونکہ کشمیر سے فوجی انخلاء کو بنیاد بنا کر بات ہو رہی تھی لہذا اگر ایسا نہیں ہوتا تو امن کا تماتر عمل متاثر ہوگا۔