Sunday, 04 March, 2007, 08:30 GMT 13:30 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
کشمیر میں فوج کم نہيں ہوگي
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں تعینات فوج میں فی الحال کمی نہیں کی جائےگی۔ منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ فوج لوگوں کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئي ہے اور اگر وہاں دہشت گردی میں کمی آتی ہے تو حکومت فوج کی تعداد کم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہماری فوج کوئی قابض فوج نہیں ہے۔ وہ وہاں قانون کی احترام کرنے والے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے مامور ہے‘۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میر واعظ عمر فاروق نے کشمیر میں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان نے کنٹرول لائن کے دونوں جانب فوجیں کم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
فضا میں پراسرار آگ
ہندوستان میں شہری ہوا بازی کا محکمہ ان اطلاعات کے بارے میں تفتیش کر رہا ہے جن کے مطابق گزشتہ سنیچر کی رات کئی پائلٹوں نے فضا میں آگ کا ایک پراسرار گولہ دیکھا۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کے کم از کم دس پائلٹوں نے رپورٹ کی ہے کہ انہوں نےگجرات کی فضا میں پونے دو بجے رات کو نارنجی رنگ کا آگ کا گولہ دیکھا۔
بعض پائلٹوں نے تو اسے شہاب ثاقب کی طرح بتایا۔ حکام نے سب سے پہلے تو یہ تحقیق کی کہ کسی ہوائی جہاز کا کوئی حادثہ تو نہیں ہوا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ تاہم پاکستان نے اسی اثناء میں میزائل تجربے کی اطلاع بھارتی حکام کو دی تھی لیکن اس کا صحیح وقت نہیں بتایا تھا اور اب اس حوالے سے تفصیلات بھی معلوم کی جارہی ہیں۔
غیر ملکی شدت پسند بھارتی جیلوں میں
![]() | |
| قیدیوں میں پاکستان، افغانستان، برما، سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے شہری بھی شامل ہیں |
ٹریفک کے قانون سخت
![]() | |
| معمولی جرمانے کی رقم بھی سو روپے سے بڑھا کر پانچ سو روپے کرنےکی تجویز ہے |
فون ٹیپنگ اب پہلے سے مشکل
نئے ٹیلی گراف ضابطے کے تحت ملک میں فون ٹیپنگ کے عمل کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔ ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اب ایسے دو افسران مقرر کرنے ہوں گے جو یہ دیکھیں گے کہ مختلف ایجنسیوں کی طرف سے کی گی فون ٹیپنگ کی درخواست صحیح ہے یا نہیں۔ کسی کا فون ٹیپ کرنے کے لیے مرکزی یا ریاستی داخلہ سیکرٹری کی تحریری اجازت لازمی ہو گی جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ہر پندرہ دن بعد ٹیپنگ کے حکم کی تصدیق کرنا ضروری ہوگا۔
فون ٹیپنگ کے ضابطے میں سختی گزشتہ مہینوں میں بعض سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کے ان الزامات کے بعد کی گئي ہے کہ ان کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔