Thursday, 01 March, 2007, 16:28 GMT 21:28 PST
دلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے نٹھاری گاؤں میں بچوں اور عورتوں کے قتل کے معاملے کے اہم ملزم سریندر کوہلی کو اقبالیہ بیان دینے کے لیے دارالحکومت میں واقع پٹیالہ ہاوس عدالت ميں پیش کیا گیا۔
ملزم سریندر کوہلی نے خود عدالت کے سامنے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ چندر شیکھر نے سریندر کوہلی کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔ تاہم سریندر کوہلی کے بیان کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کو سریندر کوہلی کو ویڈیو کانفرنسنگ روم میں لایا گیا، جہاں ان کے بیان کو کیمرے میں محفوظ کر لیا گيا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سریندر کوہلی کے بیان کو اس وقت تک منظر عام پر نہیں لایا جائے گا جب تک کہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہو جاتی۔
اس دوران مقتولین کے رشتے دار بھی مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے سامنے اپنے بیان درج کرانے کے لیے عدالت ميں حاضرہوئے۔
دلی کی عدالت نے تین وکلاء کوملزم کولی کے دفاع کے لیے مقرر کیا تھا۔ لیکن دو وکلاء نے اس معاملے میں وکیل صفائی بننے سے انکار کر دیا۔
انکار کرنے والوں میں سے ایک وکیل سنگیتا بھیانہ نے کوہلی کا مقدمہ یہ کہتے ہوئے لڑنے سے انکار کر دیا تھا کہ اگر وہ یہ مقدمہ لڑیں گی تو اس سے ان کی جان کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس مقدمہ کو اس وقت دلی کی پٹیالہ ہاوس عدالت میں منتقل کردیاگیا جب بعض مقتولین کے مشتعل رشتے داروں نے غازی آباد کی ایک ماتحت عدالت کے احاطے میں ملزمان پر حملہ کردیا تھا۔
خیال رہے کہ نوئیڈا قتل کا معاملہ گزشتہ برس دسمبر ميں منظر عام پر آیا تھا اور اس واقعہ میں بیس سے زائد بچوں اور عورتوں کے قتل کا امکان بتایا جاتا ہے۔