Wednesday, 28 February, 2007, 08:38 GMT 13:38 PST
ہندوستان کے سال دو ہزار سات اور آٹھ کے لیے عام بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ زرعی شعبے میں ترقی کو دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ زراعت میں موجودہ ترقی کی شرح 3۔2 فیصد ہے اورانہوں نے اسے گیارویں پانچ سالہ منصوبےميں چار فیصد تک پہچانے کا اعلان کیا ہے۔ زراعت کے میدان میں کسانوں کے لیے دولاکھ پچیس ہزار کروڑ روپے کا قرض مہیا کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
بجٹ میں بارانی علاقوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے موسم کے مطابق زرعی فصل کے لیے بیمہ سکیم کی تجویز پیش کی ہے اور کیمیائی کھاد پر مراعات دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ غیر منظم مزدور کے لیے سماجی حفاظتی انتظامات اسکیم کا بھی اعلان ہوا ہے۔
ایڈز اور پولیو جیسی بیمارییوں کو ملک سے ختم کرنے اور اس کے بچاؤ کے لیے بھی اعلانات کیے گئے ہیں۔ ایڈز پر قابو پانے کے لیے 969 کڑوڑ روپے مختص کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پرائمری اور سیکنڈر ی تعلیم پر خاص توجہ دیتے ہوئے تعلیم کے لیے بجٹ میں تقریباً 35 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔
عام بحٹ کے سبب سیگریٹ، بیڑی اور پان مسالے مہنگے ہونگے جبکہ پیٹرول ، ڈیزل اور کھانے کے تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگی۔
بجٹ کے دن ملک کی حصص بازار میں صبح سے ہی مایوسی کا ماحول نظر آ رہا ہے اور صبح سے اب تک 350 پوانٹس گر گیا ہے۔