Tuesday, 27 February, 2007, 08:38 GMT 13:38 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام احمدآباد
احمدآباد کے نواح میں جنتا نگر کالونی میں کافی چہل پہل ہے۔ سٹرک کے کنارے ایک بڑا سا پنڈال لگا ہوا ہے اور اس میں ایک ’منڈپ‘ بنا ہوا ہے۔ یہاں خوشبو راول کی شادی ہے۔
خوشبو کوئی عام لڑکی نہیں ہے ۔اس کی دادی ایک کارسیویکا تھیں اور پانچ برس قبل 27 فروری کو ایودھیا سے لوٹتے وقت گودھرا کے نزدیک ٹرین پر کیے گئے حملے میں وہ ہلاک ہوگئی تھیں۔ خوشبو کے والد وشو ہندو پریشد کے کارکن تھے۔ وہ اگلے ہی روز فسادات میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
ماں کے لیے اکیلے زندگی مشکل تھی انہوں نے بھرت بھائی پنچال سے دوسری شادی کرلی۔ بھرت بھائی کی بیوی بھی گودھرا کی ٹرین میں جل کر ہلاک ہوئی تھیں۔ آج دونوں ماضی کی یادوں سے نکل کر مستقبل کے نئے معنی تلاش کر رہے ہیں۔ بھرت بھائی کہتے ہیں ’پہلے میرا ایک ہی پریوار تھا آج دودو پریوار ہیں۔ آج خشبو کی شادی ہے اسی طرح خوشیوں کے ساتھ میرے بچوں کی بھی شادی ہو، یہی میر تمنا ہے‘۔
27 فروری 2002 کو گودھرا کی ٹرین پر حملے میں 59 کارسیوک جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کے لیے پولیس نے مقامی مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ ہلاک ہونے والے کارسیوکوں کے رشتے داروں کے لیے گزشتہ پانچ برس آسان نہیں رہے ہیں۔جنتا نگر کالونی کے پرکاش کمار کی بیوی وشو ہندو پریشد اور حکومت سے کافی ناراض ہیں ’نریندر مودی اور وشو ہندو پریشد نے مالی امداد کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کیا۔ ہمیں کچھ بھی نہیں دیا‘۔
پرکاش اپنی بیوی کھونے کے باوجود مذہبی منافرت کے ساتھ نہیں جنیا چاہتے ’دل و دماغ میں جو تھا وہ بھلا دیا ہے۔ آج ہم سبھی کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرا بچہ ایسے سکول میں پڑھتا ہے جس میں سبھی مذہب کے بچے پڑھتے ہیں‘۔
![]() | |
| خوشبو کا دولھا لوکیش بھان شاہ بھی گودھرا ٹرین میں زخمی ہوا تھا |
خوشبو کی طرح یہاں کے بچے اور نئی نسل مذہبی منافرت کے سائے میں پرورش پا رہے ہیں۔ خوشبو کی بارات آگئی ہے۔ خوشبو کا دولھا لوکیش بھان شاہ ہے۔ وہ گودھرا سابرمتی ایکسپریس کی آگ میں زخمی ہوا لیکن زندہ بچ گیا تھا۔
خوشبو ایک نئی زندگي شروع کررہی ہے لیکن ماضي کی تلخ یادیں اس کا بہت دیر تک پیچھا کريں گي۔
گودھرا کا المیہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔