Friday, 23 February, 2007, 08:26 GMT 13:26 PST
نارائن باریٹھ
جے پور
سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں ریاست راجستھان سے حراست میں لیے گئے مشتبہ شخص کو مزید پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ کی پولیس پانی پت لے گئی ہے۔
بیکانیر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس اشوک راٹھور نے سلمان احمد کو مزید پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ پولیس کے حوالے کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
راجستھان پولیس نے بدھ کو سلمان احمد نامی شخص کو ریاست کے سرحدی علاقہ بیکانیر سے حراست میں لیا تھا۔
بیکانیر کی پولیس نے سلمان احمد کا چہرہ ان خاکوں سے ملتا ہوا پایا تھا جنہیں ہریانہ پولیس نے دھماکوں کے بعد عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر جاری کیے تھے۔
ریاست کے داخلہ سکریٹری گلاب چند کٹاریہ نے بتایا ’ سلیم بار بار اپنے بیانات بدل رلا ہے اور ابھی اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔‘پولیس اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ اگر سلمان احمد ممبئی کے رہنے والے ہیں تو وہ بیکانیر کس لیے آئے تھے۔
پولیس نے سلمان احمد کے ساتھ مزید دو افراد کو بھی حراست ميں لیا تھا جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ پولیس کے مطابق وہ تاج محمد نامی ایک ریلوے اہلکار کے سلسلے میں تفتیش کر رہی تھی جو ان خاتون کے شوہر ہیں جنہیں پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
راجستھان پولیس نے بم دھماکوں کی تفتیش میں ہریانہ پولیس کی مدد مانگی تھی کیوں کہ سمجھوتہ ٹرین دھماکوں کی تفتیش ہریانہ پولیس کر رہی ہے اور راجستھان پولیس کی تفتیش کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ہریانہ پولیس کی ایک ٹیم جمعرات کو بیکانیر پہنچی تھی۔