Tuesday, 20 February, 2007, 09:22 GMT 14:22 PST
ہندوستان اور پاکستان نے کہا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں سے ان کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اور اسی بات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اپنے مجوزہ دورے پر منگل کو دلی پہنچ رہے ہیں۔
خورشید قصوری ہند- پاک مشترکہ کمیشن کے پانچویں اجلاس میں حصہ لینے کے لیے آرہے ہیں۔ ان مذاکرات کا باضابطہ آغاز بدھ سے ہوگا۔
دونوں ملکوں کے درمیان سال دوہزار چھ میں تکنیکی سطح پر کل آٹھ میں سے چھ معاملات پر معاہدے ہوئے تھے جن میں زراعت، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ماحولیات اور سیاحت شامل تھے۔ اس دورے میں تعلیم اور اطلاعات پر مذاکرات متوقع ہیں۔
اس کے علاوہ امید کی جارہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری ہتھیاروں سے ہونے والے ممکنہ حادثات کو کم کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوں گے۔
اطلاعات کے مطابق خورشید محمود قصوری منگل کو تقریبا ساڑھے تین بجے ہندوستان پہنچیں گے۔ خیال ہے کہ دلی پہنچنے کے بعد وہ سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد سے ملنے دلی کے صفدر جنگ ہسپتال جائیں گے۔
پہلے اطلاعات تھیں کہ قصوری پانی پت کا دورہ کر سکتے ہیں لیکن دلی میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق ان کے پانی پت جانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔
اس مرتبہ خورشید قصوری کا دورہ ہندوستان اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ماضی میں جب بھی اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں تو دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی ہے اور رشتوں میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
اس سے قبل جب دو ہزار چھ میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے تو ہندوستان نے ان دھماکوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کی تھی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سیکرٹری سطح کی بات چیت ہونے والی تھی۔ لیکن ممبئی دھماکوں کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔