Thursday, 15 February, 2007, 10:38 GMT 15:38 PST
ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کے لیے فنڈ جمع کرنے کے لیے مختلف راستے اختیار کر رہی ہیں اور اب منافع کمانے کے لیے یہ تنظیمیں ملک کے حصص بازار میں بھی داخل ہو چکی ہیں۔
اتوار کو مینوخ میں سکیورٹی پالیسی کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر نارائنن نے کہا کہ ’ملک کے ممبئی اور چنئی کے حصص بازاروں میں کئی فرضی کمپنیوں کی جانب سے ہونے والے سودوں کے معاملات سامنے آئے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لیے اب جائز طریقے سے بھی بینکوں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
مسٹر نارائنن نے کہا کہ متعلقہ ایجنسیوں کو کئی بار معلوم ہوا کہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں سے نکالی یا وہاں جمع کروائی گئی رقم شدت پسند تنظیموں کے لیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور نیپال کے راستے ہندوستان میں نقلی نوٹ بھیجے جاتے ہيں اور ہر برس ایک بڑے مقدار میں انہیں برآمد کیا جاتا ہے۔
مسٹر نارائنن نے یہ بھی کہا کہ امداد کے نام پر کام کرنے والی بعض تنظیموں کے بھی تعلقات شدت پسند تنظیموں سے ہیں۔
اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کے الرشید ٹرسٹ کا نام لیا جو پہلے کسی دوسرے نام سے سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ شدت پسند تنظیموں تک پیسہ کئی راستوں سے پہنچتا ہے اور اس کام میں پاکستان کا حبیب بینک بھی شامل ہے۔