Thursday, 15 February, 2007, 16:45 GMT 21:45 PST
بڑھتے افراط زر کے پیش نظر ہندوستان کے تین قومی بینکوں نے قرض پر سود کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔
ہندوستان کے مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے منگل کے روزگزشتہ دو ہفتے میں دوسری بار سخت اقدام اٹھاتے ہوئے بینکوں میں لازمی طور پر رکھی جانے والی نقد رقوم کے تناسب میں اضافہ کیا۔
بینک آف بروڈہ، پنجاب نیشنل بینک اور بینک آف انڈیا نے اپنے سود کی شرح میں نصف فیصد کا اضافہ کر دیا۔
حکام کے جانب سے جاری کیے گئے جائزے میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں افراط زر کی شرح چھ اعشاریہ سات تین فیصد ہے۔
حکام کے مطابق افراط زر کی شرح میں اضافے کے سبب مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور ملک میں روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں ہیں۔
دوسری جانب مرکزی حکومت نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے جمعرات کے روز پٹرول کی قیمت میں دو روپے اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے کی کمی کی ہے۔
جے پی مورگن کمپنی کے تجزیہ کار راجیو ملک کا کہنا ہے کہ حکومت کےاس قدم سے افراط زر پر جلد ہی قابو پا لیا جائے گا۔
راجیو ملک کا خیال ہے کہ درآمدات پرڈیٹوٹی میں حالیہ کمی، مالی نظام میں مزید سخت اقدامات اور بجٹ میں ڈیوٹی میں کمی سے افراط زر میں مزید کمی آۓگی جس سے قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی۔