http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 14 February, 2007, 12:02 GMT 17:02 PST

منی پور انتخابات کا دوسرا مرحلہ

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست منی پو ر میں بدھ کی صبح سے اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ جاری ہے۔

دوسرے مرحلےمیں مشرقی امپھال، مغربی امپھال اور بیشن پور اضلاع کی انتیس نششتوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے آزادانہ اور شفاف الیکشن کرانے کے لیے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی ایک سو انیس کمپنیوں سمیت بورڈر سکیورٹی فورسز کی انتالیس بٹالین کی تعیناتی بھی کی ہے۔

تقریبا تین لاکھ چالیس ہزار رائے دہندگان کل ایک سو پچپن امیدوارں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ کل 863 پولنگ مراکز بنائے گئے ہیں۔ جن میں نصف پولنگ مراکز کو حساس اور ایک چوتھائی پولنگ مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

اہم امیدواروں میں سابق مرکزی وزیر اور منی پور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چاوبا سنگھ، سابق وزیر اعلی آر کے دوریندر سنگھ اور منی پور پیپلز پارٹی کے کے ایل چندرا منی چناؤی میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

منی پور کو ایک حساس ریاست تصور کیا جاتا ہے اور یہاں علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے مسلح افواج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت خصوصی اقدامات کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہاں کا نظام 1980 سے فوج کے پاس ہے۔ حقوق انسانی کی تنظمیں فوج کے اختیارات کو ظالمانہ قرار دیتی ہیں۔

فوج کو خصوصی اختیارات
 مسلح افواج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت خصوصی اقدامات کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہاں کا نظام 1980 سے فوج کے پاس ہے۔ حقوق انسانی کی تنظمیں فوج کے اختیارات کو ظالمانہ قرار دیتی ہیں
 

منی پور کی عوام کا مطالبہ رہا ہے کہ اس ایکٹ کو ختم کیا جائے۔گزشتہ چھ سال سے منی پور کی سماجی کارکن ’اروم شرمیلا‘ اس ایکٹ کے خلاف بھوک ہڑتال پر ہیں۔

پہلے مرحلے کی پولنگ آٹھ فروری کو ہوئی تھی جس میں انیس اسمبلی حلقوں کے لیے انتخابات ہوئے تھے۔تیسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ تیس فروری کو ہونی ہے جس میں کل بارہ نشستوں کے لیےانتخاب ہوں گے۔

منی پور میں کل ساٹھ اسمبلی حلقے ہیں اور ووٹوں کی گنتی کا کام ستائس فروری سے شروع ہوگا۔