Wednesday, 07 February, 2007, 03:42 GMT 08:42 PST
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ کا فوجی حل ممکن نہیں اور یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔
مسٹر مکھرجی ایران کے دو روزہ دورے پر ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بھی بین ا لاقوامی برادری کے خیالات اور خاص طور پر جوہری معاملات کے عالمی ادارے کے مؤقف کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
پرنب مکھرجی کے اس دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
خطے میں امریکی افواج کی بڑھتی تعداد کی خبروں کے درمیان مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ’ہندوستان نے ہمیشہ ہی کہا ہے کہ ایران کے جوہری تنازعہ کا فوجی حل ممکن نہیں ہے‘۔
ہندوستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ یہی صلاح دے سکتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جانا چاہیے ۔
پرنب مکھرجی بدھ کو ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اور وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ مسٹر مکھرجی کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی بھی دوسرے ملک کی طرح سول مقاصد کے لیےجوہری پروگرام چلانے کا حق ہے لیکن
جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے پر دستخط کرنے والے ملک کی حیثیت سے اس پر کچھ شرائط بھی لاگو ہوتی ہیں۔
اس دوطرفہ بات چیت میں ہندوستان ایران سے 22 ارب ڈالر کے قدرتی گیس سمجھوتے پر عمل درآمد کی اپیل کر سکتا ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران نے ہندوستان کو ہر سال پانچ ملین ٹن قدرتی گیس دینے کا وعدہ کیا ہے۔
اس معاہدے پر 2005 میں دستخط کیے گئے تھے لیکن ایرانی پارلیمان نے اس معاہدے کو منظوری نہیں دی تھی۔
اس سلسلے میں مسٹر مکھرجی کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر زور دیں گے کہ معاہدے کو حتمی شکل دے کر ایران اپنے وعدے کو پورا کرے۔
معاہدے کے بعد ایران نے گیس کی قیمت میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔