Saturday, 03 February, 2007, 10:40 GMT 15:40 PST
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کی حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے نٹھاری معاملے میں نوئیڈا کے اعلٰی پولیس اہلکار کے تبادلے کے ساتھ علاقے کے سرکل آفیسر کو بھی معطل کردیا ہے۔
اتر پردیش کی حکمراں سماج وادی پارٹی کے جنرل سیکریٹری امر سنگھ ایک پریس کانفرنس میں پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے تھے کہ نوئیڈا معاملے میں انتظامیہ سخت قدم اٹھائے گی۔
تاہم ریاست کے داخلہ سیکریٹری آر ایم شری واستو نے ایس ایس پی راٹھور کے تبادلے کو انتظامیہ کا ایک عام قدم قرار دیا ہے۔
امر سنگھ نے پریس کانفرنس میں کانگریس پر الزام عائد کیا تھا ’نٹھاری معاملے کو کانگریس ضرورت سے زیادہ طول دے رہی ہے‘۔
اس سے قبل مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے بھی اتر پردیش پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھائے تھے۔
گزشتہ برس انتیس دسمبر کو نوئیڈا میں منندر پندہیر نامی ایک تاجر کے گھر کے سامنے واقع نالے سے پولیس نے سترہ انسانی ہڈیاں اور ڈھانچے برآمد کئے تھے۔ تاہم پولیس پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ ابتدائی پندرہ دنوں کی تفتیش میں ملزم کو تلاش کرنے کے بجائے اس نے اصل ثبوت کو مٹانے کی کوشش کی تھی۔
![]() | |
| ’گزشتہ دو برسوں میں گاؤں سے تقریبا چالیس بچے اور عورتیں لاپتہ ہوچکے ہیں‘ |
علاقے کے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نےگمشدگیوں سے متعلق رپورٹ درج کرنے اور ان افراد کی تلاش میں کوتاہیاں برتی ہیں۔نٹھاری کے باشندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ان کے گاؤں سے تقریبا چالیس بچے اور عورتیں لاپتہ ہوچکے ہیں۔
اس سے پہلے بھی اتر پردیش حکومت نے چھ پولیس اہلکاروں کو برخاست اور تین افسروں کو معطل کر دیا تھا۔