Saturday, 27 January, 2007, 11:58 GMT 16:58 PST
رام دت ترپاٹھی، فیصل محمد علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر گورکھپور میں پولیس کے مطابق فرقہ وارانہ جھڑپ میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ ہلاکت کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے ریاست مدھیہ پردیش کے جبل پور شہر میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب کرفیو نافذ کر دیاگیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گورکھپور میں ہلاکت کا واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا۔
ضلع کے سینئر پولیس اہلکار رام چنڈ یادو کا کہنا ہے: ’حالات کشیدہ لیکن قابو میں ہیں‘۔
امن قائم کرنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں لکھنؤ سے پولیس کے اعلٰی اہلکار بھی گورکھپور روانہ ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فرقہ وارانہ جھڑپ کی شروعات اس طرح ہوئی کہ اسماعیل پور میں جھنکار ٹاکیز کے سامنے ایک ہندو خاندان کے جلسے میں ناچ گانا جاری تھا۔ اسی دوران دو گروہ آپس میں جھگڑ پڑے۔ ایک گروہ وہاں سے بھاگا جبکہ دوسرے گروہ نےگولی چلا دی۔
اسی وقت سامنے سے مسلمانوں کا محرّم کا جلوس آ رہا تھا۔دیسی پستول کے کچھ چھرّے محرّم کے جلوس میں شامل لوگوں کو بھی لگ گئے۔ اس کے بعد جلوس کے لوگوں نے مبینہ حملہ کر کے راج کمار اگرہری نامی ایک نوجوان کو ہلاک کر دیا۔ جلوس کے شرکاء نے اسماعیل پور میں کاروں اور دکانوں میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
نعرے بازی |
ہندو مہاسبھا کے لیڈر آدیل ناتھ یوگی بھی دھرنے میں پہنچ گئے۔ ان کے وہاں پہنچنے پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نعرے بازی اور ہوائی فائرنگ ہوئی جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔اور جب کشیدگی کافی حد تک بڑھ گئی تو ضلع اہلکاروں نے کرفیو نافذ کردیا۔
ادھر جبل پور کے اعلٰی پولیس اہلکار مکرنڈ دیوسکر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کے چھ علاقوں میں نصف رات سے غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ والے اس شہر میں گزشتہ دنوں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ شہر میں جہاں محرّم اور جینیوں کے مذہبی اجلاس کے موقع پر خصوصی جلسوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے وہیں سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر آر ایس بھی آئندہ منگل کو اپنے ایک رہنما ایم ایس گول ولکر کی سوویں سالگرہ کے موقع پر ایک بڑا اجلاس منعقد کررہی ہے۔
آر ایس ایس کے کارکنان اس اجلاس میں حصہ لینے کے لیے بڑی تعداد میں ہندوؤں کو دعوت دے رہے ہیں۔
ضلع کے اہلکاروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان واقعات کے باوجود مسلم اور جین مذہب کے لوگ اپنے علاقوں میں مذہبی جلوس نکالیں گے۔