Thursday, 25 January, 2007, 23:45 GMT 04:45 PST
تحریر و تصاویر: ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین یوم جمہوریہ کے موقع پر ہر سال سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اس سال حفاظتی بندوبست کی ذمہ داری ہندوستان کی پیرا ملٹری فورسز اور مقامی پولیس کو مشترکہ طور دی گئی ہے۔
گزشتہ روز جموں میں صحافیوں کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران پولیس کے ڈائریکٹر جنرل گوپال شرما نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس کو ہدایات دی گئی ہیں کہ حفاظتی انتظامات کے دوران عام شہریوں کو تکلیف نہ پہنچے لیکن پچھلے دو ہفتوں سے پولیس اور سی آر پی ایف نے سرینگر کے بخشی سٹیڈیم کے گرد پانچ کلومیٹر والی پٹی کو گھیرے میں لے کر تلاشی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ اس دوران علیٰحدگی پسند اور جنگجو جماعتوں نے چھبیس جنوری کو ہڑتال کرنے اور اس دن کو یوم سیاہ کے طور منانے کی اپیل کی ہے۔
ہڑتال کی کال اور انتہائی سخت حفاظتی انتطامات کی وجہ سے پورے سرینگر میں یوم جمہوریہ کی تقریب سے ایک روز قبل ہی کرفیو کا سما ں ہے۔ پولیس کے مطابق بخشی سٹیڈیم کے ارد گرد والے علاقوں خاص طور پر لالچوک وغیرہ میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور ہر آنے جانے والے کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
تشدد کے واقعات |
پولیس کی طرف سے لالچوک اور گردونواح کے علاقوں کو ’فوجی چھاونی‘ بنانے پر حزب اختلاف کے لیڈر علی محمد ساگر نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ دو ماہ تک پولیس نے تلاشی کی انتہائی سخت مہم چلائی لیکن اسے عوامی بیزاری کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوا لیکن انسپکٹر جنرل ایس ایم سہائے اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ یہ پیشگی چوکسی کا ہی نتیجہ ہے کہ ابھی تک کوئی نا خوشگوار واردات رونما نہیں ہوئی۔