Wednesday, 24 January, 2007, 08:56 GMT 13:56 PST
سبیر بھومک
بی بی سی کولکاتا
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں علیحدگی پسند باغیوں نے کانگریس کے ایک اور رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے میں حکمراں جماعت کانگریس رہنما کا یہ دوسرا قتل ہے۔
پولیس کے مطابق منگل کی آدھی رات کو ڈبروگڑھ ضلع کے ترنی سچھنی گاؤں کی پنچایت کے سربراہ چندر چھتیا کےگھر میں تین باغی داخل ہو ئے اور انہوں نے ان پرگولیاں چلانی شروع کر دیں۔ مسٹر چھتیا کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔
گزشتہ ایک ہفتے میں علیحدگی پسند باغیوں کی طرف سے کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے لیڈروں پر یہ دوسرا قاتلانہ حملہ ہے۔ باغیوں کی طرف سے ایک اعلان میں کہا گیا تھا کہ اگر ان کے گروپ کے خلاف کاروائی بند نہیں کی گئی تو وہ حکمراں کانگریس پارٹی کے رہنماؤں پر حملے کریں گے۔
دوسری طرف فوج نے دو تاجروں کو علیحدگی پسند باغی سمجھ کر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے جبکہ گولی باری میں ایک شخص زخمی بھی ہوگياہے۔
فوج کی جانب سے فائرنگ کا یہ واقعہ گلیکی قصبہ میں پیش آیا ہے۔ ان ہلاکتوں کی وجہ سے علاقے میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔
اس سے قبل منگل کو مبینہ طور پر باغیوں کی جانب سے کیے گئے دو بم دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور نو افراد زخمی ہوئے تھے۔
پولیس نے ان دھماکوں کے ليے الفا یعنی یونائیٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام کوذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ لیکن ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
گزشتہ برس ستمبر میں الفا اور مرکزی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے شدت پسندوں نے اپنی کاروائياں تیز کر دی ہیں۔
اس مہینے کی شروعات میں مبینہ طور پر الفا باغیوں نے کم از کم 70 ہندی بولنے والے افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
آسام کی آزادی کے لیے الفا باغیوں کی طرف سے طویل عرصے سے جدو جہد جاری ہے۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی حکومت چائے اور گیس جیسے قدرتی وسائل ضائع کر رہی ہے اور عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے جو نسلی طور پر برما اور چین سے قریب تر ہیں۔