http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 17 January, 2007, 15:29 GMT 20:29 PST

نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

نوئیڈا کیس: حکام، پولیس پر نکتہ چینی

ہندوستان کی مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی نے دلی کے نواحی شہر نوئيڈا کے نٹھاری گاؤں سے انسانی ہڈیاں برآمد ہونے کے معاملے میں نوئیڈا پولیس اور حکام کی کارروائی پر نکتہ چینی کی ہے۔

نٹھاری گاؤں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے اس معاملے کی کئی زاوئیوں سے تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نوئيڈا کے نٹھاری گاؤں میں کم از کم سترہ بچوں کی ہڈیوں کے ڈھانچے بر آمد ہونے کے بعد خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی وزارت نے پورے معاملے کی سچائی اور تفصیلات کا پتہ لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

نٹھاری گاؤں کے دورے، متاثرہ والدین اور مقامی باشندوں سے ملاقات کرنے کے بعد بدھ کو کمیٹی نے اپنی رپورٹ خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزارت کی وزیر رینوکہ چودھری کو سونپ دی ہے۔

رینوکہ چودھری نے کہا کہ وہ رپورٹ پڑھنے کے بعد ہی کوئی ردِ عمل ظاہر کریں گی لیکن وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک چونکانے والی بات ہے کہ گمشدہ بچوں کے والدین کی شکایات کو پولیس اور حکام نے نظر انداز کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی علاقے سے بڑی تعداد میں بچوں کے گمشدہ ہونے کے باوجود پولیس نے ان بچوں کے بارے میں پتہ لگانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔ خاص طور پر غریب طبقے کے گمشدہ بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر تلاش نہیں کیاگیا۔
نٹھاری گاؤں میں سنیتا دیوی کی دس سالہ بیٹی بھی لاپتہ ہے

کمیٹی کو دورے کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ ابھی تک جرم کی پس پردہ وجوہات واضح نہیں ہو سکی ہیں اور اس معاملے میں جسم کے اعضاء کی تجارت، جنسی استحصال اور جرائم کے دیگر طریقوں کے حوالے سے بھی تفتیش کرنے ضرورت ہے۔

کمیٹی نے اس پہلو پر بھی زور دیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت صرف ملزموں کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر کی گئی ہیں لہذا ابتدائی معلومات کی مزید تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں نوئيڈا کے ایک گھر کے سامنے واقع نالے سے پولیس نے ستر انسانی ڈھانچے برآمد کیے تھے ۔ تاہم جب اس معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو دی گئی تو انہوں نے اسی گھر کے
آس پاس سے انسانی اعضاء سے بھرے ہوئے چالیس تھیلے برآمد کیے تھے۔

دوسری جانب نٹھاری گاؤں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ان کے گاؤں سے تیس سے زائد بچے اور عورتیں لاپتہ ہیں۔