Tuesday, 16 January, 2007, 16:41 GMT 21:41 PST
دلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے نٹھاری گاؤں سے انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے اور اعضاء برآمد ہونے کا معاملہ دن بدن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
زبردست دباؤ کے بعد اس معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو سونپی گئی ہے اور اب اس کے مخلتف پہلوؤں کی جانچ کی جارہی ہے۔
دسمبر میں اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے اپنی تفتیشی کارروائی کے بعد تقریبا 17 انسانی ڈھانچے برامد کیے تھے۔ لیکن سی بی آئی کی تفتیش کے بعد یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد شاید اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی۔
پانچ روز کی تفتیش کے بعد سی بی آئی کی ٹیم نے اس معاملے کے اہم ملزم منندر سنگھ پندھیر کے گھر کے سامنے واقع نالے سے انسانی اعضاء سے بھرے چالیس تھیلے برامد کيے اور اس کے علاوہ مزید انسانی ہڈیاں بھی ملیں ہیں۔
اس طرح کے بھی اشارے مل رہے ہیں کہ شاید دونوں ملزموں کا دوبارہ نفسیاتی تجزیہ یعنی نارکو انالسس کیا جائے۔
سی بی آئی کے چارج سنبھالنے کے بعد روزانہ کچھ نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ جانچ میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ اس معاملے کو دبانے میں کہیں اتر پردیش کی پولیس کا کوئی رول تو نہیں تھا۔ سی بی ائی اس سلسلے میں بھی بعض پولیس افسروں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
لیکن اس سب کے درمیان نٹھاری گاؤں کے متاثرین نے اپنی امیديں نہیں چھوڑی ہیں۔
مختلف علاقوں سے آئے وہ والدین جو اپنے لاپتہ بچوں کی تلاش میں وہاں آئے ہیں انہيں نوئيڈا پولیس کے بعد سی بی آئی کے افسروں سے اپنے بچوں کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کی امید پیدا ہوئي ہے۔