Sunday, 14 January, 2007, 14:43 GMT 19:43 PST
ہندوستان میں مقامی میڈیا کے مطابق دلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے نٹھاری گاؤں میں بچوں اور عورتوں کے اغواء اور قتل کے معاملے میں سی بی آئی کی ٹیم کو مزید انسانی ڈھانچے ملےہیں۔
تاہم مرکزی تفتیشی ادارے نے اس برآمدگی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس برآمدگی میں بعض ایسے اعضاء ملے ہیں جسے سے اہم ملزم مونندر سنگھ پنڈھار اور سرریند کوہلی کے انسانی اعضاء کے خریدو فروخت کے کاروبار سے جڑے ہونے کے خدشات بھی کم ہوئے ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں اور پولیس کو شک تھا کہ ملزمان انسانی اعضاء کے کاروبار میں ملوث ہوسکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انسانی ڈھانچوں سے بھرے بیگ سی بی آئی نے اہم ملزم مونیندر سنگھ کے بنگلے کے قریبی نالے سے برآمد کیے۔ ان میں انسانی جسم کے اوپری حصے کے اعضاء شامل ہیں۔
سی بی آئی کے ترجمان جی موہنتی نے اس کے متعلق کوئی بھی بیان دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے کسی بھی نیوز ایجنسی کو اس طرح کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز بھی سی بی آئی کی ٹیم کو تلاشی کے دوران تین کھوپڑیاں ملی تھی۔ تاہم سی بی آئی نے اس خبر کی بھی تصدیق نہیں کی تھی۔
گزشتہ جمعہ کے روز سی بی آئی اور فورنزک محکمہ کی ایک ٹیم نے مشترکہ طور پر معاملے کی تفتیش کے لیے ملزم مونندر سنگھ پنڈھار کے بنگلے کا معائنہ کیا تھا۔
ملزم کے بنگلے کا معائنہ جنسی استحصال اور قتل کے بارے میں سراغ حاصل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ مسٹر پنڈھار کا بنگلہ دِلّی کے نواحی شہر نوئیڈا کے سیکٹر اکتیس میں واقع ہے۔
نٹھاری گاؤں میں گزشتہ دو برس کے درمیان تیس سے زائد بچوں کی گمشدگی کی شکایت مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے انکے لاکھ کہنے پر بھی پولیس نے گمشدگیوں کی رپورٹ درج کرنے میں کوتاہی برتی ہے۔
نوئیڈا معاملے کے بعد ملک گیر سطح پر یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ کیا ہندوستانی قانون غریب اور کمزور طبقوں کے تئیں منفی رویہ رکھتا ہے۔