Thursday, 11 January, 2007, 09:28 GMT 14:28 PST
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ 24 اپریل 1973 کے بعد آئین کے نویں شڈیول میں جو قانون شامال کیے گئے ہيں عدلیہ ان پر بھی نظرثانی کر سکتی ہے۔
جمعرات کے روز نو ججوں کی ایک آئینی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔
فیصلہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے وکیل ایم این لوہٹیا نے بتایا: ’سپریم کورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کوئی بھی قانون جس کا تجزیہ عدلیہ کی جانب سے نہیں کیا جا سکتا اسے صحیح قرار نہیں دیا جائے گا۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانون و انصاف کے وزیر ایچ آر بھاردواج نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ صاف کر دیا ہے کہ اب سبھی حکومتوں کو کسی بھی قانون کو نویں شڈیول میں ڈالنے سے قبل دو بار سوچنا پڑے گا۔
ان کا کہنا ہے: ’اگر کوئی قانون آئین کے بنیادی ڈھانچے پر اثر ڈالتا ہے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے روکا جا سکتا ہے۔‘
دراصل 1951 میں ہندوستان کے آئین میں ترمیم کے بعد پہلی مرتبہ نویں شڈیول کو شامل کیا گيا تھا۔ اس ترمیم کے تحت جو بھی قانون آئین کے نويں شڈیول میں شامل کیے جائيں گے انہیں عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔
فی الوقت دو سو سے زيادہ قانون نویں شڈیول میں ڈالے گئے ہیں۔ ان میں تامل ناڈو میں رزویشن، مغربی بنگال میں زمینی اصلاح اور گجرات میں جائداد کے مالکانہ حقوق جیسے قانون نويں شڈیول میں شامل کیے گئے ہیں۔
آگے کی کارروائی کے ليے تین ججوں کی ایک بنچ ان تمام درخواستوں کا رویو کرے گی جن میں نویں شڈیول میں موجود قانون کو چیلنچ کیا گیا ہے۔