Tuesday, 09 January, 2007, 15:44 GMT 20:44 PST
شہاب فضل
لکھنؤ
بھارت کی ریاست اتر پردیش کی ریاستی حکومت کی حلیف جماعت راشٹریہ لوک دل نے حکمران سماج وادی پارٹی کے ساتھ اپنے اتحاد کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سبھی وزراء سے استعفے لے لیے ہیں۔
راشٹریہ لوک دل کے صدر اجیت سنگھ نے ایک نیوز کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ’ملائم سنگھ یادو کابینہ میں وریندر سنگھ ، کوکب حمید اور سوامی اومویش سے استعفی لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آبپاشی کمیشن کی چیر پرسن انورادھا چودھری سے بھی استعفی لیا گیا ہے‘۔
مسٹر سنگھ نے مزید کہا ’سماج وادی پارٹی سے ہمارا اتحاد ٹوٹ چکا ہے اور سبھی استعفے وزیراعلی ملائم سنگھ کو بھیج دیے جائیں گے اور حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے سلسلے میں اگلے ہفتے مجلس عاملہ میں غور کیا جائے گا‘۔
ان کا کہنا تھاکہ یہ قدم گنّے کے کسانوں کو سرکار کی طرف سے 200 روپے فی کونٹل کے بجائے صرف 122 روپے قیمت دیے جانے کے خلاف اٹھایا گیاہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ’ استعفٰی دینے کا فیصلہ قطعی ہے اور اسے واپس نہیں لیا جائےگا‘۔
دریں اثنا کانگریس نے کہا ہے کہ مذکورہ استعفوں کے بعد ملائم سنگھ کی حکومت اقلیت میں آ گئی ہے اور اب وزيراعلٰی کو فورا استعفی دے دینا چاہيے۔
اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کے ترجمان اکھیلیش پرتاپ سنگھ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا’وزیراعلٰی کواب ایک پل بھی اقتدار میں رہنے کا حق نہیں ہے‘۔
حال ہی میں ریاست کی میرٹھ یونیورسٹی کی ایک لیکچرار کویتہ رانی کی گمشدگی اور ان کے مبینہ طور پر قتل کے معاملے میں اپنا نام آنے کے بعد راشٹریہ لوک دل کے ایک وزیر بابو لعل نے بھی گزشتہ دونوں ملائم کابینہ سے استعفی دے دیا تھا۔
اتر پردیش کی موجودہ اسمبلی میں راشٹریہ لوک دل کے 15 ممبران ہیں اور ابھی حال تک ملائم سنگھ کابینہ میں اس کے پانچ اراکین بھی شامل تھے۔
ملائم سنگھ حکومت پر یہ نئی پریشانی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب اتر پردیش کے نوئيڈا شہر میں ایک گھر سے 17 انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے برامد ہوئے ہیں۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ملائم سنگھ یادو کی حکومت کو مختلف حلقوں سے سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔