Tuesday, 09 January, 2007, 20:04 GMT 01:04 PST
جیوتسنہ سنگھ
دلی
ہندوستان کی مرکزی ریاست مدھیہ پردیش کے دھر ضلع میں سینکڑوں کسانوں نے مجوزہ صنعتکاری کے لیے زرعی زمین کے قبضے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی ہے۔
دھر ضلع کے دس گاؤوں کے کسانوں نے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر مجوزہ منصوبہ ان کے علاقے سے واپس نہیں لیا گیا تو مزید احتجاج کیے جائیں گے۔
مرکزی حکومت نے تقریبًا پانچ ارب روپے کی لاگت سے دھر سے 45 کلومیڑ دور واقع پتم پور انڈسٹریل سٹیٹ میں آٹو موبائل ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک یونٹ قائم کر نے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
اس یونٹ کو قائم کرنے کے لیے 4000 ہیکٹر زمین کی ضرورت ہے اس لیے ریاستی حکومت کو اطراف کے دس گاؤں کی زرعی زمین کو قبضے میں کر نا ہوگا۔
کسانوں کی تنظیم ’بھارتیہ کسان سنگھ‘ کے رہنما راجیندر شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں کو معمولی رقم دے کر ان کی زرخیز زمین پر قبضہ کر رہی ہے۔ جبکہ اس علاقے کے بشتر افراد کاشتکاری کے پیشے سے منسلک ہیں۔
ملک کی اتر پردیش ، پنجاب ، ہریانہ اور مغربی بنگال میں بھی کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے ملک میں صنعتکاری کے فروغ کے لیے سینکڑوں خصوصی اقتصادی خطے بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اس کے لیے زمین کے بڑے قطعات کی ضرورت ہے۔ اس کے سبب اس وقت ملک میں کسان بڑے پیمانے پر حکومت کی جانب سے زرعی زمین کے قبضے اور ملنے والے معاوضے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
![]() | |
| کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی زمین کے بدلے معمولی معاوضہ دیا جارہا ہے |
اگرچہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں سے ان منصوبوں کے سبب متاثر ہونے والے افراد کےمناسب معاوضہ کی فراہمی کو یقینی بنانےکی ہدایات جاری کی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سےنمٹنے کے لیے باز آباد کاری کی قومی پالیسی میں تبدیلی لانی ہو گی۔
گزشتہ پیر کو ایک تجارتی وفد سے خطاب کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی کہا تھا کہ باز آباد کاری کے لیے تین مہینےکے اندر ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔