http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 09 January, 2007, 11:33 GMT 16:33 PST

آسام: مشتبہ افراد کی تلاش جاری

ہندوستان کی ریاست آسام میں فوج نے ان مشتبہ باغیوں کی تلاش شروع کر دی ہے جنہوں نے جمعہ سے اب تک کم از کم 70 افراد ہلاک کر دیے ہیں۔

آسام: ہندی بولنے والوں پر مزید حملے

حالات کا جائزہ لینے کے ليے ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کے ساتھ فوج کے سربراہ جنرل جے جے سنگھ منگل کو آسام پہنچنے والے ہیں۔ اس دوران تازہ حملے میں ہندی بولنے والوں مزید دو افراد کومشتبہ باغیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

فوج کے اہلکاروں کے مطابق منگل کو سبسگر ضلع میں ایک جھڑپ میں دو باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے یونائٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام یا ’الفا‘ کا ہاتھ ہے۔ یہ تنظیم طویل عرصے سے آسام کی آزادی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پولیس نے مشتبہ افراد کی تلاش شروع کردی ہے

فوج کے تقریبًا تیرہ ہزار جوان آسام اور اروناچل پردیش کے سرحد ی علاقے میں مشتبہ افراد کی تلاشی کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اروناچل پردیش پولیس کے چیف امود کنتھ نے بتایا ہے ’ آسام اور اروناچل کی سکیورٹی فورسز چھپے ہوئے افراد کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کرلیں گی‘۔

آسام کے حکام کا کہنا ہے کہ الفا باغیوں نے پڑوسی ریاست اروناچل میں بعض مقامات پر خفیہ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں جہاں وہ حملوں کے بعد چھپ جاتے ہیں۔

دوسری جانب حالیہ حملوں کی وجہ سے ہزاروں ہندی بولنے والے افراد آسام چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
ہندی بولنے والے آسام چھوڑ کر جا رہے ہیں (فائل فوٹو)

حالیہ حملوں میں مشتبہ باغیوں نے ریاست بہار کے باشندوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد اینٹیں بنانے والے بھٹّے میں کام کرنے والے مزدور تھے۔

ہندوستان کے محکمہ ریل کے وزیر اور ریاست بہار کے سابق وزیراعلیٰ لالو پرسادو اور وزارتِ داخلہ کے وزیر مملکت شری پرکاش جیسوال علاقے کا دورہ
کر چکے ہیں۔ دونوں وزراء نے ہندی بولنے والے افراد سے الفا باغیوں کو پوری طرح سے ختم کر نے کا وعدہ کیا ہے۔

آسام پولیس نے چھبیس جنوری کو یومِ جمہوریہ اور فروری میں ہندوستان کے قومی کھیلوں کے موقع پر اس قسم کے حملوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔