Thursday, 04 January, 2007, 15:41 GMT 20:41 PST
اتر پردیش کی حکومت نے نوئيڈا شہر میں انسانی ڈھانچے برآمد ہو نے کے معاملے میں چھ پولیس اہلکاروں کو برخاست اور تین افسروں کو معطل کر دیا ہے۔
گزشتہ دنوں دلی سے متصل نوئیڈا سے خواتین اور بچوں کے تقریبا 17 ڈھانچے بر آمد کیۓگئے تھے۔
اس دوران داخلی امور کے وزیر مملکت شری پرکاش جیسوال نے نٹھاری گاؤں کا دورہ کیا اور متاثرین کے گھر والوں سے ملاقات کی ہے۔ اس گاؤں سے درجنوں بچے اور خواتین لاپتہ ہوئے ہیں۔
علاقے کے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نےگمشدگیوں سے متعلق رپورٹ درج کرنے اور ان کی تلاش میں کوتاہیاں برتی ہیں۔
مسٹر جیسوال کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی حکومت چاہے تواس پورے معاملے کی تفتیش سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورو سے کرائی جا سکتی ہے۔
’ہمیں یہ کیس سی بی آئی کے حوالے کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن یہ ریاستی حکومت پر ہےکہ وہ کس سے مطمئن ہے۔‘
ریاستی ہائی کورٹ نے بھی حکومت سے اتر پردیش میں اغواء اور لاپتہ بچوں سے متعلق ایک باقائدہ رپورٹ طلب کی ہے۔ بیشتر اپوزیشن جماعتوں نے ریاست میں امن و قانون کی صورت حال پر نکتہ چینی کی ہے۔
ریاست کے وزیر اور وزیراعلی ملائم سنگھ یادو کے بھائی شیو پال سنگھ یادو نے بھی نٹھاری گاؤں کا دوہ کیا ہے اور کہا کہ وہ اب تک کی کارروائی سے کافی مطمئن ہیں۔
نٹھاری کے باشندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ان کے گاؤں سے تقریبا چالیس بچے اور عورتیں لاپتہ ہوئے ہیں۔
قومی انسانی حقوق کے کمیشن کی دو ہزار چار کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، بہار اور اڑیسہ جیسی ریاستوں سے ہر برس پیتالیس ہزار بچے لاپتہ ہوتے ہیں۔