Sunday, 24 December, 2006, 16:03 GMT 21:03 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں2006 کے دوران امن عمل اور تشدد ساتھ ساتھ جاری رہا۔
ایسا پہلی بار ہوا کہ جنسی دلالی کے معاملے کو لے کر قریب تین ماہ تک عوامی تحریک جاری رہی یہاں تک کہ سکینڈل کی سرغنہ سمیت کئی سرکردہ شخصیات اور سیاستدانوں کو قید کی سزا ہوئی۔
تاہم سال بھر پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی تجاویز کے حوالے سے سیاسی ماحول خاصا گرم رہا اور یہی وجہ ہے کہ 2006 کو مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق فارمولوں، سیاسی کانفرنسوں اور لیڈروں کے بیرونی دوروں کا سال قرار دیا جا رہا ہے۔
مشرف کے فارمولے
اس سال کے آغاز میں 25 جنوری کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں نوبل انسٹیٹیوٹ کی تقریب سے خطاب کے دوران جنرل مشرف نے کہا کہ وہ ’آؤٹ آف بُکس‘ حل کے لیے تجاویز پر بحث کے لیے تیار ہیں، کیونکہ بقول ان کے آزادی کا آپشن ہندوستان کو تسلیم نہ ہوگا۔
یہ بیان اسلام آباد، نئی دلّی اور سرینگر میں مباحثوں اور کانفرنسوں نیز لیڈروں کے دوروں کا گویا محرک بن گیا۔ بعدازاں 14 جنوری کو سی این این ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل مشرف نے نئی دلّی کے اس بیان کو ’400 فیصد غلط‘ بتایا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے آئیڈیاز پر ’بیک چینل ڈپلومیسی‘ نہیں ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تجاویز کو تحریری طور بہت پہلے حکومت ہند کو پیش کیا جا چکا ہے اور یہ کہ، ’جب تجاویز کا جواب نہیں آیا تو مجھے اِنہیں پبلک کرنا پڑا‘۔
27 فروری کو پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ان تجاویز کو’مختلف سطحوں پر ڈسکس کیا جا رہا ہے‘ جبکہ 10 مارچ کو ایک تقریب میں صدر مشرف نے انکشاف کیا کہ جموں کشمیر کے مشترکہ کنٹرول کی تجویز دراصل حکومت ہند کے خفیہ مصالحت کار آنجہانی جے این ڈکشٹ نے درپردہ مکالموں کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب طارق عزیز کو دی تھی۔ انہوں نے اسی تقریب میں یہ اعلان بھی کیا کہ’ اگر مجھے سرینگر میں منموہن سنگھ اور کشمیری لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دی گئی تو میں تیار ہوں‘۔
ہندوستان کا ردعمل
![]() | |
| شبیر شاہ مذاکرات میں شریک نہ ہوئے |
لیڈروں کے بیرونی دورے
امریکی این جی او پگواش نے کٹھمنڈو، اسلام آباد اور قاہرہ میں کانفرنسیں بلائیں جن میں ہند مخالف اور ہند نواز دونوں حلقوں کے لیڈر شرکت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ مالدیپ، نیویارک، واشنگٹن، کراچی ، نئی دلی اور جموں میں بھی کشمیر کے متبادل حل کے حوالے سے مباحثوں کا اہتمام کیا گیا۔
اس دوران میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت کانفرنس کا وفد اس اعلان کے ساتھ پاکستان گیا کہ ’ہم وہاں اکتوبر 2005 میں آئے زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی دلجوئی کریں گے‘۔
تاہم وفد نے پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ یٰسین ملک بھی اسی اثنا میں علیٰحدہ طور پاکستان گئے اور انفرادی طور جنرل مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی۔
میر واعظ عمر فاروق نے پاکستان میں قیام کے دوران یہ بیان دیا کہ حریت کانفرنس کشمیر کے دونوں حصوں کو ملاکر ایک متحدہ وفاق تشکیل دینا چاہتی ہے جس کی پاکستان اور ہندوستان مشترکہ نگرانی کرینگے۔ اسے انہوں نے یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر بتایا۔
مارچ میں امریکی صدر جارج بش اپنے جنوبی ایشیائی دورے کے دوران بھارت آئے تو ان کی آمد سے ذرا دیر قبل میر واعظ نے یہ بیان دیا کہ کنٹرول لائن کی نگرانی اور جموں کشمیر میں فوجی انخلا کو یقینی بنانے کے لئے کئی ملکوں کے عسکری اتحاد ’نیٹو‘ کی مدد لی جائے۔
تاہم صدر بش نے روایتی انداز میں دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کریں۔ اسی دوران 2 اپریل کو راولپنڈی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر سے متعلق اس سال کے آخر تک فریم ورک طے ہوگا‘۔ میر واعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک نے امریکہ اور یورپ کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد اور سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید بھی امریکہ گئے جہاں انہوں نے اپنے اپنے موقف کی وکالت کی۔
گیلانی اٹل رہے
ہند نوازوں کا لہجہ تبدیل
سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ہی مقامی سیاست میں تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہوگئے تھے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ عمر عبداللہ سمیت کئی سرکردہ ہند نواز لیڈروں نے پاکستان کا دورہ کیا اور وہاں جنرل مشرف سے ملاقات کی اور واپسی پر مشرف کی تجاویز کی جم کر وکالت شروع کر دی۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
سیکس سکینڈل
![]() | |
| سیکس سکینڈل کے خلاف کشمیری خواتین نے جلوس نکالے |
تشدد کی لہر
دریں اثنا ہندوستانی پارلیمنٹ میں وزیر دفاع اے کے آنتونی نے انکشاف کیا کہ سال 2006 کے دوران بارہ افسران سمیت فوج کے ایک سو اسّی جوان جنگجوؤں کے حملوں میں ہلاک ہوگئے۔ ہلاکتوں اور جنگجو سرگرمیوں کا ریکارڑ رکھنے کے لیے پولیس کے خصوصی سیل کے ایک افسر نے بتایا کہ اس سال 15 دسمبر تک ریاست میں دو سو پچانوے فورسز اہلکار، تین سو پینتالیس جنگجو اور ساڑھے تین سو عام شہری مارے گئے۔ ریاستی امور داخلہ سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ اس سال مختلف الزامات کے تحت سات سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
اس دوران سینکڑوں افراد جن میں جنگجو، عام شہری اور سیاح شامل ہیں، تشدد کے مختلف واقعات میں مارے گئے۔ موسمِ گرما کے دوران جب سیاحوں کی آمد عروج پر تھی سرینگر اور گردونواح میں اپریل سے وسط جولائی تک دو درجن بم حملے ہوئے جن کا زیادہ تر ہدف گجرات، مغربی بنگال اور ممبئی سے کشمیر کی سیر کے لئے آئے سیلانی تھے۔ ان حملوں میں چار سیاح ہلاک جبکہ ایک سو دس زخمی ہوگئے۔
جموں کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل ایس ایم سہائے کے مطابق اس سال گیارہ ماہ میں تشدد کے 224 واقعات رونما ہوئے اور 160 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا جن میں سے سو کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس سال تشدد آمیز واقعات میں جموں کشمیر پولیس کے پچاس اہلکار مارے گئے۔
افضل بچاؤ مہم
![]() | |
| افضل گرو بچاؤ تحریک کشمیر سے دلی تک پھیل گئی |
تبدیلی کے آثار
سال کے آخری ایام میں پاکستان نے کشمیر سے متعلق اپنی روایتی پالیسی کو ترک کرنے کے واضح اشارے دیے اور یہاں کی سیاسی تقسیم کے دونوں جانب یہ آوازیں مزید بلند ہوگئیں کہ مشرف کی تجاویز کا جواب دیا جائے ورنہ دیر ہو جائے گی‘۔ ( یہ فقرہ عمر عبداللہ اور میرواعظ عمر نے یکساں لہجہ کے ساتھ الگ الگ مواقع پر ادا کیا)۔
چودہ دسبمر کو ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنابھ مکھرجی نے پارلیمنٹ میں یہ بیان دیا کہ حکومت ہند کشمیر کی سرحدوں میں’اِدھر اُدھر‘ سمجھوتہ پر آمادہ ہے۔ دو روز بعد ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جاپانی دورے سے واپسی پر اُن تمام ’نئے آئیڈیاز‘ کا خیر مقدم کیا جو دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات حل کرنے میں مدد دیں۔
یوں یہ سال کشمیر کے تعلق سے تجاویز کے شور سے شروع ہوا اور ہندوستان کی جانب سے خارجہ پالیسی میں لچک کے معنی خیز اشارے پر اختتام پذیر ہوا۔ درمیان میں جنسی سکنڈل کے خلاف تحریک اور ہند نوازوں کے لہجہ میں سختی ایسے عناصر ہیں جو 2006 کو سترہ سالہ پرتشدد دور سے ممیز کرتے ہیں۔ دیگر خصائص میں تشدد میں کمی(آرمی چیف جے جے سنگھ کا سرینگر میں بیان) اور متبادل حل پر گیلانی کے بغیر باقی تمام ہند نوازوں، ہند مخالف حلقوں اور مسلح قیادت کا تقریباً اتفاق رائے قابل ذکر ہیں۔
سال 2007 کا آغاز عوامی حلقوں میں پیدا شدہ ان سوالات سے ہو رہا ہے کہ کیا ڈاکٹر منموہن سنگھ اور جنرل مشرف کشمیرسمجھوتہ پر متفق بھی ہوں گے اور اپنے ملکوں کے عوام کو متفقہ حل پر مطمئن بھی کریں گے؟