Saturday, 23 December, 2006, 15:06 GMT 20:06 PST
عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، حیدرآباد دکن
آئی آئی ٹی کا تنازعہ
آندھراپردیش کی کئی برسوں کی محنت اور جستجو کے بعد بالاخر مرکزی حکومت نے ریاست میں اعلٰی تعلیمی ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے قیام کی منظوری دے دی ہے-
اس ادارے کے قیام کے لیے ریاستی اسمبلی کو تین مرتبہ قراردادیں منظور کرکے مرکزی حکومت کو بھجوانا پڑی تھیں لیکن اس کامیابی پر خوشی منانے کی بجائے ریاست کی بعض سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اپوزیشن تلگودیشم کو اعتراض ہے کہ یہ ادارہ حیدرآباد کے بالکل قریب میدک ضلع میں قائم کیا جارہا ہے جبکہ اس نے اپنے دور اقتدار میں حیدرآباد سے 300 کلومیٹر دور عادل آباد ضلع کے ایک مقدس مقام باسر میں اس ادارہ کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔
اس کا کہنا تھا کہ باسر کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کہ ملک میں علم اور دانش کی ہندو دیوی سرسوتی کا واحد مندر اسی جگہ واقع ہے اور اکثر طلبا اعلٰی تعلیم کے حصول سے پہلے اس جگہ کی یاترا کرتے ہیں۔ تاہم کانگریس کی حکومت نے میدک کے انتخاب کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ آئی آئی ٹی کسی ایسی جگہ ہی قائم کیا جاسکتا ہے جو سڑک ریل اور فضائی رابطے سے جڑا ہو اور جہاں طلبا اور عملے کے لئے تمام ضروری سہولتیں موجود ہوں
ایڈز کے مقابلے میں چیونٹی کی رفتار
![]() | |
| انڈیا میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے |
حکومت کی سست روی کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ زندگی اور موت کا سوال بن جانے والے مسائل میں بھی وہ اپنی روش نہیں بدلتی۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ آندھراپردیش ایڈز کے مہلک مرض سے بری طرح متاثر ہونے والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔
پانچ سال قبل تلگودیشم حکومت نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ شادی سے پہلے ایڈز کے معائنہ کو لڑکا اور لڑکی دونوں کے لیے لازمی قرار دینے کا قانون بنایا جائے۔ تاہم اتنے عرصے تک بحث کے باوجود آج تک اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔گزشتہ ہفتے جب وزیرِ صحت کے روشیا سے پوچھا گیا کہ اس قانون سازی کی تجویز کا کیا ہوا تو انہوں نے کہا’ہم یہ قانون بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے اپوزیشن سے مشورہ کررہے ہیں‘۔ کام کرنے کی یہ رفتار شاید چیونٹی کو بھی مات کر دے۔
کیرالا میں تھوکنا منع ہے
![]() | |
| کیرالا کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک سیاحت پر ہے |
اس سے پہلے حیدرآباد کی مجلس بلدیہ نے عوامی مقامات پر پیشاب کرنے پر پابندی عائد کی تھی اور اس کے لیے ایک انوکھی سزا نافذ کی تھی۔ فٹ پاتھ پر پیشاب کرتے ہوئے پکڑے جانے والوں کو بلدیہ کی گاڑی شہر سے باہر 10 کلومیٹر دور لے جا کر ویران جگہ پر چھوڑ دیتی اور اسے پیدل چلتے ہوئے واپس آنا پڑتا۔ مجلس بلدیہ حیدرآباد اب تھوکنے پر بھی پابندی عائد کرنے پر غور کررہی ہے اور حکام کا کہنا ہے وہ تھوکنے والوں پر 500 تا 5000 روپے جرمانہ عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ثانیہ مرزا۔ فلموں کو’بگ نو‘
![]() | |
| ثانیہ کے اعتماد اور مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے |
دوحہ سے حیدرآباد واپسی پر ان کا ایک ہیروئن کی طرح استقبال کیا گیا۔ کبھی اپنی ٹی شرٹس اور شارٹ سکرٹ کے لیے تنازعہ میں گھرنے والی ثانیہ نہ صرف ٹینس، ماڈلنگ اور فیشن کی دنیا میں مرکز توجہ بنی ہوئی ہے بلکہ آہستہ آہستہ اس پر فلمی دنیا کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔گزشتہ مہینے چین کی خبر رساں ایجنسی’ژن ہوا‘ کی جانب سے ٹینس کی 10 خوبصورت ترین خاتون کھلاڑیوں میں شامل کی جانے والی 20 سالہ ثانیہ نے کئی فلمسازوں کی درخواست کو ٹھکرا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گی جو اس کے ٹینس کے راستہ میں رکاوٹ بنے۔