Monday, 18 December, 2006, 09:56 GMT 14:56 PST
دلی ہائی کورٹ نے منو شرما کو جیسکا لعل کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت قصور وار قرار دیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت مجرم کو سزائے موت یا پھر عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔
منو شرما کے علاوہ امردیپ عرف ٹونی گل اور ویکاس یادو کو بھی اس مقدمے میں قصور وار قرارد دیا گیا ہے۔ ان افراد کوشواہد مٹانے اور مجرمانہ سازش کرنے کے الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی چشم دید گواہ بینا رمانی کی گواہی پر ہی یہ فیصلہ ُسنایا گیا ہے۔ عدالت نے فوری طور پر قصورواروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ پولیس نے منو شرما کی تلاش شروع کر دی ہے جبکہ ٹونی گل کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس مقدمے کے تیسرے قصوروار ویکاس یادو اپنے دوست نتیش کٹارا کے قتل کے ایک اور مقدمے میں اہم ملزم ہونے کے سبب پہلے ہی سے حراست میں ہیں۔
منو شرما سابق وفاقی وزیر ونود شرما کے بیٹے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق مجرم منو شرما نے ماڈل جیسیکا لعل کو اپریل 1999 میں اس وقت گولی کا نشانہ بنایا جب انہوں نے منو شرما کو شراب پیش کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس پارٹی کا انتظام مشہور فیشن ڈیزائنر بینا رمانی اور ان کی بیٹی مالینی رمانی نے کیا تھا۔ قانوناً وہاں اس طرح کی پارٹی کی اجازت نہیں تھی۔
یہ مقدمہ گزشتہ ساڑھے سات سال سے چل رہا تھا۔ اس دوران تین چشم دید گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے۔ ان چشم دید گواہوں میں فلم ’جھنکار بیٹس‘ کے ہیرو شیام منشی، کرن راجپوت اور شیوداس شامل تھے۔
![]() | |
| اہم شخصیات نے جیسیکا کی بہن کے ساتھ مل کر انصاف کیلیے مہم شروع کر دی تھی |
مقدمے نے ایک نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب ہندوستان کے مشہور و معروف وکیل رام جیٹھملانی منو شرما کے دفاع میں آگے آئے اور منوشرما کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے پر جیسیکا کی بہن سبرینہ لعل نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
اس سال فروری میں ایک ذیلی عدالت نے ملزم منو شرما سمیت تمام آٹھ ملزمان کو بری کر دیا تھا۔