Monday, 11 December, 2006, 19:01 GMT 00:01 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ٹاٹ کام
ہندوستانی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعد حکمران اتحاد یو پی اے کی اتحادی پارٹی مارکساوادی کمیونسٹ نے بھی ہند امریکہ جوہری معاہدے کی مخالفت کی ہے۔
مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کارت کا کہنا ہے ’ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاملے پر پارلیمنٹ ميں بحث کے دوران جن پہلوؤں پر یقین دہانی کرائی تھی وہ تمام پہلو سمجھوتے میں موجود نہیں ہیں اور بعض شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں‘۔
ُُُُُُُُُُُُُُُُُُُُُپرکاش کرات کا کہنا ہے کہ بیورو کے ممبران نے اس سمجھوتے کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد انہیں پتا چلا ہے کہ ہندوستان کو جو یقین دہانی کرائی گئی تھی اسے پورا نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ’اس معاملے پر باقاعدہ طور پر پارلیمنٹ ميں بحث ہونی چاہيے اور اس کے بعد ہی اس بل کو نافذ کرنے کے لیے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے‘۔
اس سلسلے میں پیر کو وزیر خارجہ پرنب مکھرجی پارلیمنٹ میں بیان دینے والے تھے لیکن دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی کے سبب اجلاس پورے دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
سی پی ایم نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ بل میں کئی نئی شرائط عائد کی گئیں ہیں۔ ’سمجھوتے کے تحت امریکہ ہمیں مستقل طور پر جوہری ایندھن فراہم کرنے کے لیے پابند نہیں ہو گا اور اگر امریکہ ایندھن دینا بند کر دیتا ہے تو ہندوستان نیوکلیر سپلائر گروپس سے بھی مدد نہیں لے سکے گا‘۔
مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے معاہدے میں نو مقامات پر ایران کے ذکر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔