Monday, 11 December, 2006, 11:29 GMT 16:29 PST
ہندوستان کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور شو سینا نے وزیراعظم منموہن سنگھ کےاس بیان پر معافی کا مطالبہ کیا ہے جس میں انہوں نےمسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو وسائل کی حصے داری میں ترجیح دینے کی بات کہی تھی۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما وی کے ملہوترا نے اس موضوع پر بحث کے لیے وقفہ سوالات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہفتے کے روز وزير اعظم منموہن سنگھ نے قومی ترقیاتی کونسل کےاجلاس میں کہا تھا کہ اقلتیوں اور خاص طور پرمسلمانوں کو ملک کی ترقی میں مساوی حصہ داری دی جانی چاہیئے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمانوں کو اس حد تک مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں برابر کے حصّے دار بن سکیں۔
حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ترجیح دینے کی بات دراصل وزیراعظم آئندہ اسمبلی کے انتخابات کے پیش نظر کر رہے ہیں اور انکی نظرمسلمانوں کے ووٹ پر ہے۔
وزیراعظم کے بیان پر سیای حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے ۔وزیر اعظم کےدفتر کی جانب سے بھی ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا کہ مسٹر سنگھ کے بیان کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے انہوں نےصرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ ملک کےسبھی کمزور اور پسماندہ طبقوں کے بارے میں یہ بات کہی تھی۔