http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 10 December, 2006, 14:43 GMT 19:43 PST

خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

’بل کی منظوری، ملک کی بے عزتی‘

ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہند امریکہ جوہری معاہدے پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان موجودہ صورت میں بل کو منظور کرتا ہے تو وہ ملک کی بے عزتی ہوگی۔

پارٹی کے مطابق موجودہ بل ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ پارٹی نے حکومت سے اس بل کو نا منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جس بل کو منظور کیا ہے اس کے تحت ہندوستان پر بعض ایسی پابندیاں عائد کی گئیں جس کے تحت نہ صرف ہندوستان کے جوہری پروگرام کی آزادی پوری طرح ختم ہوجائے گی بلکہ ملک کی خارجہ پالیسی بھی امریکہ کے اختیار میں چلی جائے گی۔

پارٹی کے سینئر رہنما یشونت سنہا کا کہنا ہے: ’موجودہ بل کےتحت امریکہ ہندوستان کو مکمل طور پر سویلین جوہری توانائی فراہم نہیں کرےگا۔ ہندوستان کوسویلین ریئکٹر کے لیے امریکہ نے مسلسل جوہری ایندھن فراہم کرنے کی کوئی گارنٹی نہیں دی ہے بلکہ اس بل کے مطابق بنا امریکہ کی اجازت کے ہندوستان پرانے ایندھن کو دوبارہ استمعال بھی نہیں کر سکتا ہے۔‘

’لیکن جو بل ہمارے سامنے ہے اس کے تحت ہندوستان کی خارجہ پالیسی بھی امریکہ کی خارجہ پالیسی کی طرز پر ہونی چاہیئے ۔اگر ہندوستان ایسا نہیں کرتا تو امریکہ اس کی مخالفت کرے گا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہندوستان نے ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کی ہے جس کی اس بل میں تعریف کی گئی ہے۔‘

مسٹر سنہا نے کہا کہ حکومت اگر بل کو موجودہ صورت میں قبول کرتی ہے تو بی جے پی اس کے خلاف احتجاج کرے گی۔

پیر کے روز امریکہ کے صدر جارج بش اس بل پر دستخط کر يں گے اور اس کے بعد ہندوستان وہ جوہری ٹیکنالوجی حاصل کر سکے گا جس پر گزشتہ تین عشرے سے پابندی عائد ہے۔ لیکن اس بل پر مرکزی حکومت کو حزب اختلاف کے علاوہ خود ان کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔