Friday, 08 December, 2006, 15:07 GMT 20:07 PST
انڈیا میں ایک ہزار مردوں کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بین الاقوامی سائز کے بنے ہوئے کونڈوم انڈین مردوں کی اکثریت کے لیے بہت بڑے ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جن مردوں کی پیمائش لی گئی ان میں نصف کے عضو تناسل بین الاقوامی کونڈومز کے سائزوں سے چھوٹے ہیں۔ سروے کے نتائج منظر عام پر آنے کے بعد مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ آئندہ انڈین مردوں کے لیے بنائے جانے والے کونڈوم میں سائز کا دھیان رکھا جائے۔
مذکورہ تحقیق انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے دو سال میں مکمل کی ہے جس میں ملک بھر سے ایک ہزار دو سو مردوں کے عضو تناسل کو ناپا گیا۔
ماہرین نے سروے کے لیے مردوں کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھا کہ منتخب شدہ لوگ انڈیا کے مختلف طبقوں، مذاہب اور ان کے شہری یا دیہی ہونے کی بھرپور نمائندہ ہوں۔
اس تمام سائنسی کاوش کا مختصر نتیجہ یہ ہے کہ تقریباً ساٹھ فیصد انڈین مردوں کے عضو تناسل اس بین الاقوامی معیار سے تین اور پانچ ملی میٹر کم ہیں جس کو کونڈوم بناتے وقت ملحوظ رکھا جاتا ہے۔
![]() | |
| انڈیا میں ایڈز سے متاثر افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے |
ڈاکٹر چندر پوری کے مطابق یہ ایک خاصا سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ انڈیا میں جب بھی کونڈوم استعمال کیا جاتا ہے تو ہر پانچ میں سے ایک مرتبہ ضائع ہو جاتا ہے، جو کہ کونڈوم ضائع ہونے کی بہت بڑی شرح ہے۔ یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ انڈیا وہ ملک ہے جہاں ایڈز سے متاثر افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
ڈاکٹر چندر پوری نے مزید کہا کہ چونکہ زیادہ انڈین مرد بازار سے چھوٹے سائز کے کونڈوم مانگتے ہوئے شرمائیں گے اس لیے ملک بھر میں ایسی ونڈنگ مشینیں ہونی چاہئیں کہ جہاں سے وہ اپنے سائز کا کونڈوم خرید سکیں۔ ’ انڈیا میں چھوٹے سائز کے کونڈوم بھی دستیاب ہیں لیکن لوگوں کو پتا نہیں کہ ہر سائز کے کونڈوم ملتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہچکچاہٹ بھی پائی جاتی ہے اور کیمسٹ کی دکان پر لوگ عموما چھوٹے سائز کا کونڈوم مانگتے ہوئے شرماتے ہیں۔‘
لیکن ہندوستان میں مردوں کے مشہور رسالے میکسم کی طرز پر نکالے جانے والے میگزین کے ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ انڈین مردوں کو یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ انہیں بین الاقوامی سائز کا مقابلہ کرنا ہے۔ ’ہمارے ملک کی آبادی سے ثابت ہوتا ہے کہ انڈین مردوں کی کارکردگی ٹھیک ہے۔ مشہور انگریزی شاعر الیگزینڈر پوپ سے معذرت کے ساتھ میں یہ کہوں گا کہ : انچوں اور سینٹی میٹروں کی لڑائی بیوقوفوں کو لڑنے دو۔‘