Wednesday, 06 December, 2006, 16:08 GMT 21:08 PST
سنجے جینا
اڑیسہ
اڑیسہ کے کوراپٹ ضلع میں دو عورتوں نے ایک دوسرے سے شادی کی ہے اور ان کے قبیلے نے ان اسکی اجازت بھی دے دی ہے۔
اڑیسہ کے کاندھا قبیلے کے ایک پجاری نے ویٹکا پولانگ اور میلکا نلسا کی شادی کرائی ہے۔
ویٹکا کی عمر تیس برس ہے جب کہ میلکا بائیس برس کی ہیں۔
میلکا اور ویٹکا دونوں مزدوری کرتی ہیں اور شادی کے بعد کواپورٹ ضلع کے دندآباد گاؤں میں ایک ساتھ رہ رہی ہیں۔
ہندوستان کے قانون کےمطابق ہم جنسوں کے درمیان شادیاں غیر قانونی ہیں۔ ہندوستان میں ایک سو پینتالیس برس پہلے برطانوی دورمیں بنا قانون ہم جنس رشتوں کوغیر فطری مانتا ہے۔
عمرانیات کے ماہرین کےمطابق ہندوستان میں کسی برادری کا ہم جنسی شادیوں کو اجازت دینا عام نہیں ہے۔
ویٹکا اور میلکا کے لیے اپنی برادری کو اپنی شادی کے بارے میں آمادہ کرنا آسان نہیں تھا۔ جب انہوں نے پہلی بار اپنے رشتے کے بارے میں اپنی برادری کو بتایا تھا تو سبھی نے اسکی سخت مخالفت کی تھی۔
تاہم دونوں خواتین کےگھروالوں کی سفارش کے بعد گاؤں والوں نے باقاعدہ ویٹکا اور میلکا کی شادی کی اجازت دی۔
ویٹکا کے مطابق’ ہم دونوں ایک دوسرے کو بے حد پیار کرتے ہیں۔ شادی کے بعد ہم ایک خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں‘۔
گاؤں کےایک بزرگ میلکا پاؤلا کا خیال ہے کہ ویٹکا اور پولکا یہ ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ وہ مردوں کی مدد کے بغیراپنی زندگي بسر کر سکتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو بہت پیار کرتی ہیں اس لیے ہم نےانہیں معاف کردیا‘۔
لیکن دونوں خواتین کواپنی برادری کو معاوضہ ضرور دینا پڑا ہے۔ معاوضے کے طور پرانہوں نے دیسی شراب، بیلوں کاایک جوڑا اور چاولوں کی ایک بوری اپنی برادری کو دی۔انکے گھر والوں نے سبھی براداری کے لوگوں کو دعوت پر بھی بلایا۔
ماضی میں دونوں خواتین کےمردوں کے ساتھ رشتوں میں تلخ تجربات رہے ہیں۔
ویٹکا کے مطابق اس کی شادی ایک شرابی سے ہوئی تھی اوروہ اس کو پریشان کرتا تھا۔ تنگ آکراس نے اپنے خاوند کو چھوڑ دیا۔
میلکا کے گھر والوں نے اس کی مرضی کے بغیر اسکی شادی ایک لڑکے کے ساتھ طے کردی تھی ۔ میلکا نے لڑکے کے گھر والوں سے یہ کہکر اپنی منگنی توڑ دی کہ اسکا دماغی توازن صحیح نہیں ہے۔
دونوں خواتین اپنے خاندان کو ویٹکاکے بھائی کے بیٹے کو گود لے کرمکمل کرنا چاہتی ہیں۔