Tuesday, 05 December, 2006, 12:13 GMT 17:13 PST
شہاب فضل
لکھنؤ
بھارت میں اتر پردیش کی حکومت نے مسلمانوں اور عیسائیوں کی انتہائی پسماندہ ذاتوں کو شیڈیول کاسٹ کے زمرے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ریاستی حکومت نےاسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئین کی دفعہ 341 میں ترمیم کرکے مسلم اور عیسائی ذاتوں کو شیڈو ل کاسٹ کے زمرے میں شامل کرے ۔
ہندوستان کے آئین کے مطابق جن برادریوں کوپسماندہ ذات کے تحت سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزیریشن دیا گیا ہے وہ اگرمذہب تبدیل کرکے مسلمان یا عیسائی ہو جاتے ہیں تو ان کے لیۓ ریزرویشن کی سہولت ختم ہو جاتی ہے۔
'مسلم پسماندہ محاذ ، جیسی تنظیمیں برسوں سے حکومت سے یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ ریزرویشن دینے میں مذہب کی قید ختم کی جانی چاہئیے۔
ماضی میں آئین میں ترمیم کرکے جین اور بدھ مذاہب سے تعلق رکھنے والی کچھ ذاتوں کو شیڈیول کاسٹ میں شامل کیا گیا ہے لیکن مسلمان اور عیسائی اب بھی اس سے باہر ہیں۔
اتر پردیش اسمبلی نے جو قرارداد پیش کی ہے اس میں کہا گیا ہےکہ جن ذاتوں کو شڈیول کاسٹ میں شامل کیا گیا ہے ان کے ہم پیشہ طبقوں کو،خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی، انھیں بھی شیڈیولڈ کاسٹ کے مساوی سہولت ملنی چاہیۓ۔
قراردار میں کہا گيا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر مسلمان اور عیسائی دلتوں کو ریزرویشن کی سہولت سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی صورت حال پر مبنی سچّر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت پر مختلف حلقوں سے یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ مسلمانوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے انہیں ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کی مراعات دی جائیں ۔
لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہم نوا جماعتيں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ کسی بھی حالت میں مذہب کی بنیاد پر رزرویشن نہیں دیا جانا چاہئے۔