http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 05 December, 2006, 15:36 GMT 20:36 PST

الطاف حسین، اعجازمہر
سری نگر اسلام آباد بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کشمیریوں کا ملاجل ردعمل

کشمیر مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی تجاویزپر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں محتاط ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔
حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما میر واعظ مولوی عمر فاروق نےاطمینان ظاہر کیا ہےکہ پہلی بار کسی تجویز میں کشمیر کے پانچوں خطوں کو شامل کر کے کوئی بات کہی گی ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث جہادی تنظیموں کے اتحاد ’متحدہ جہاد کونسل، اور حزب المجاہدین کے ترجمان احسان الہٰی نے صدر جنرل پرویز مشرف کے بیان کو کشمیر کے بارے میں ان کی ہمت ہارنےاور بزدلی کی انتہا قرار دیا ہے۔

کشمیر کےعلحیدگی پسند رہنما امان اللہ خان نےکہا ہے کہ صدر مشرف کا بیان کشمیر کی خودمختاری سے لاتعلقی والےموقف کی تائید ہے۔

'ہندوستان کو اس سے بہتر موقع نہیں ملیگا۔ حکومت سے میری گزارش ہےکہ وہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔،

حریت کے سخت گیر رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کہا 'اب تک ہمارا موقف رہا ہے کہ سیلف رول ، فوج کا انخلا ، جوائنٹ پیٹرولنگ، یہ سب قابل قبول نہیں ہے ہم نے حق خود ارادیت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔،

ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی کے رہنما شبیر احمد شاہ نے پرویزمشرف کی تجویز کی نہ تو حمایت کی اور نہ ہی اسے مسترد کیا ہے۔' ہم فوج کے انخلا کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر مذاکرات سے کوئی حل نکلتا ہے تو ہم اس میں اولین فریق ہیں ۔،

جہاد کونسل کے ترجمان احسان الہٰی کےمطابق عملی طور پر پاکستان کشمیر پر اپنے موقف سے اس دن دستبردار ہوگیا جب کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے باڑ لگانے پر خاموشی اختیار کی اور اب یہ اس کا برملا اعلان ہے۔

ان کے مطابق بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سن تریپن تک خاصی خودمختاری حاصل تھی جو بھارت نے ختم کردی اس لیے مستقبل میں اس طرح کی خودمختاری کے قائم رہنے کی کیا گارنٹی ہوگی؟۔

میر واعظ عمر فاروق نے خود حکمرانی کے تصور کی حمایت کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ 'ہندرستان کے آئین کے اندر خود حکمرانی قابل قبول نہیں ہے۔،

پاکستان کی پانچ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے صدر کے نئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر مسلمہ موقف سے دستبرداری کا اختیار فرد واحد کو نہیں پارلیمان کو ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق صدر مشرف کا بیان کشمیر کا کیس کمزور اور کشمیریوں کو مایوس کرنے کے برابر ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کا انٹرویو سننے کے بعد اپنی قیادت کی مشاورت سے رد عمل ظاہر کریں گے۔