Monday, 04 December, 2006, 11:18 GMT 16:18 PST
عمر فاروق
بی بی سی حیدرآباد دکن
ہندوستان کے چوٹی کے دفاعی سائنسداں اور مزائل پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر وجے کمار سرسوت نے کہا ہے کہ مزائل سے مزائل کو مار گرانے کے جس نظام کا گزشتہ ہفتہ کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اسے چار سال کے اندر فوج کے حوالے کردیا جائے گا-
ڈاکٹر سرسوت نے کہا کہ حیدرآباد دکن میں واقع ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اب ایک ایسے مزائل شکن مزائل پر کام کررہا ہے جو گزشتہ ہفتہ آزمائے گئے مزائل سے کہیں زیادہ طاقتور اور تیز رفتار ہوگا-
نیا مزائل چار مہینے کے اندر آزمایا جائےگا۔ جو نیا مزائل تیار کیا جارہا ہے وہ 30 تا 10 کیلو میٹر کی بلندی پر دشمن مزائل کو تباہ کرسکتا ہے-
انہوں نے کہا کہ اس نظام کا کامیاب تجربہ ملک کے دفاع کے لئے بے حد اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ملک پر ہونے والے کسی بھی مزائل حملے کو ناکام بناسکتا ہے-
یہ سارا نظام خود کار ہے جیسے ہی راڈار دشمن مزائل کا پتہ لگاتا ہے ویسے ہی مشن کنٹرول سنٹر دوسرے متعلقہ مراکز کو چوکس کردیتا ہے ۔
اس مرکز کے کمپیوٹرس جوابی کارروائی کرنے والے مزائل کے لانچنگ سنٹر کو حملہ آور مزائل کی پوزیشن کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کرنا شروع کردیتے ہیں اور یہ معلومات سیدھے اس مزائل پر نصب کمپیوٹر پر پہنچ کر اس کی رہنمائی کرنے لگتے ہیں-
اس تجربہ کی کامیابی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ مزائل شکن نظام اب تک دنیا میں صرف تین ملکوں امریکہ ، روس اور اسرائیل کے پاس موجود ہے-
ڈاکٹر سرسوت نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کامزائل نظام ہندوستان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے-
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اب تک جتنے مزائل داغے ہیں اس رینج کے مزائل بھارت کے پاس بھی ہیں۔