Saturday, 02 December, 2006, 07:15 GMT 12:15 PST
عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد
ایڈز کے حکومتی اعداد و شمار درست نہیں
ہر سال کی طرح اس بار بھی عالمی یوم ایڈز آندھراپردیش کو یہ بات یاد دلا گیا ہے کہ وہ ہندوستان میں ایڈز کی ہلاکت خیز بیماری سے متاثرہ دوسری بڑی ریاست ہے۔
حالات کس تیزی سے خراب ہورہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ریاست میں ایچ آئی وی پازیٹو لوگوں کی تعداد 5 لاکھ سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اے پی ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے سربراہ اشوک کمار کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار صرف ریاست کی 40 فیصد آبادی کی ہی عکاسی کرتے ہیں اور باقی 60 فیصد آبادی کے بارے میں حکومت کے پاس کوئی معلومات موجود نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کے بارے میں سرکاری اعداد ادھورے ہیں۔ اشوک کمار کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 5 لاکھ سے لے کر 14 لاکھ کے درمیان ہوسکتی ہے۔
ایڈز کے خلاف مذہب کا سہارا
یوں تو ریاستی حکومت ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہر طرح کی تدابیر اختیار کررہی ہے اور عوام کے درمیان شعور بیدار کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن یہ کوششیں کافی ثابت نہیں ہورہیں۔ چنانچہ اب حکام نے ایڈز کے خلاف مہم میں مذہب، اور مذہبی شخصیتوں کا بھی سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے عہدیداروں نے ہندو، مسلم اور عیسائی مذہبی رہنماوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی تقریروں میں ایڈز کے خلاف شعور پیدا کرنے اور اس کے اسباب سے عوام کو واقف کروانے کی کوشش کریں- حیدرآباد کے سرکردہ اسلامی مدرسے نے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے خطبوں میں ایڈز کے موضوع پر اظہار خیال کی تائید کرتا ہے۔
![]() | |
| ریاست کے وزیر صحت کے روشیا نے ٹھیلہ بنڈی پر کنڈومز کی فروخت کا افتتاح کیا |
ہندوستان کا کیفے کافی ڈے بنگلور سے کراچی تک
ہندوستان اور پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات بہتر بنانے میں جنوبی ہند بھی اب اپنا رول ادا کررہا ہے۔ بنگلور کی ایک سرکردہ کمپنی ’کیفے کافی ڈے‘ نے پاکستان کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں اپنا کاروبار شروع کردیا ہے- یہ دکان کراچی کے زمزمہ علاقہ میں کھولی گئی ہے جو کافی فیشن ایبل اور مقبول تجارتی علاقہ ہے۔ کیفے کافی ڈے کے ڈائرکٹر نریش ملہوترہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جہاں اقتصادی ترقی کی شرح کافی تیز ہے، اس طرح کی مشروبات کے لئے کافی مانگ موجود ہے۔
![]() | |
| اب تک غیر سرکاری طور پر ہی سہی، چارمینار ہی حیدرآباد کی علامت رہا ہے |
ہندوستان میں کیفے کافی ڈے کے 364 آوٹ لیٹس موجود ہیں- یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں اندازہ لگایا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت ایک ارب سے لے کر 5 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے لیکن اس وقت یہ مختلف وجوہات کی بنا پر صرف 500 ملین ڈالر تک محدود ہے۔
چارمینار کو نظر انداز کرنے کی کوشش
مجلس بلدیہ حیدرآباد نے شہر کے لئے ایک نئے سرکاری ’لوگو‘ یا علامت کی تیاری کے لئے جو عوامی مقابلہ شروع کیا تھا وہ تنازعات میں گھر گیا ہے۔ جن چار علامتوں کوحتمی شکل دی گئی ہے ان میں سے کسی بھی علامت میں حیدرآباد کی سب سے مشہور اور اہم تاریخی عمارت ، چارمینار کو شامل نہیں کیا گیا۔ اب تک غیر سرکاری طور پر ہی سہی چارمینار ہی حیدرآباد کی علامت رہا ہے اور حکومت کے مختلف محکمے اسے اپنے لوگوز میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ زرد رنگ کی یہ عمارت 16 ویں صدی کے اواخر میں حیدرآباد کے بانی محمد قلی قطب شاہ نے تعمیر کروائی تھی- یہ پہلی بار ہے کہ شہر کے سرکاری لوگو کی تیاری میں چارمینار کو نظر انداز کیا جارہا ہے چنانچہ کئی غیر سرکاری اور سماجی تنظیموں نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ وہ چارمینار کو نظر انداز کرنے کی اس کوشش کو برداشت نہیں کریں گے۔