http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 01 December, 2006, 17:22 GMT 22:22 PST

خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی

ایڈز اب بھارت کے دیہاتوں میں بھی

ہندوستان میں ایڈز کے وائرس ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تشویشناک رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اس وقت تقریبا 57 لاکھ افراد اس مہلک بیماری سے متاثر ہیں جن میں سے چالیس فی صد سے زائد عورتیں ہیں۔ ہندوستان میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔

ایڈز کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں عورتوں کے درمیان ایڈز کے بارے میں آگائی پیدا کرنے کے لیے منظم مہم کی ضروت ہے۔

نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن یعنی نیکو کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اب ایڈز صرف جنوبی ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ دوسری ریاستوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

نیکو کی ڈائریکٹر جنرل کے سجاتھا راؤ کا کہنا ہے ملک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ بیماری صرف جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث عورتوں میں ہی نہیں بلکہ عام گھریلوں عورتوں کو بھی ہو رہی ہے۔

دلی میں ایک غیر سرکاری تنظيم ناز فاؤنڈیشن کی سربراہ انجلی گوپالن بھی کہتی ہیں کہ ملک میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن حکومت اس بیماری کو صرف جسم فروشی کا کام کرنے والی خواتین اور ٹرک ڈرائیوروں کی بیماری سمجھ کر اس کے روکنے کے لیے مہم چلاتی ہے۔

انجلی گوپالن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ملک میں ایڈز ہم جنسی کے سبب بھی تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن چونکہ ہم جنسی قانون کے مطابق جرم ہے اس لیے آگائی کی کسی مہم میں کھل کر اس کے بارے میں بات بھی نہیں کی جاتی ہے‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے یہ بمیاری ہندوستان میں پھیل رہی ہے ۔ اس تناسب سے روک تھام کے نہ تو اقدامات کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی اس نوعیت کی کوئی مہم چل رہی ہے۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو سستی دوائیں فراہم کرنے کے لیے دلی میں دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ ایک معاہدے کے موقع پر امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے کہا ہے کہ ’یہ بات سب کو ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ايچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کا بھی اس دنیا میں مقام ہے اور یہ بیماری کوئی سزائے موت نہیں ہے‘۔

ایڈز کے بین الاقوامی دن کے موقع پر غیر سرکاری تنظيموں کی مدد سے ملک کے کئی شہروں میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ لوگوں نے سڑکوں پر مارچ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں سستی دواؤں کے بجائے معیاری ادویات، بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ معاشرے میں بھی جائز مقام دیا جائے۔ اس مارچ میں کئی بچے بھی شریک تھے جنھوں نے ہاتھوں میں تختیاں اٹھا رکھی تھیں، جن پر لکھا تھاکہ ’ہمیں بھی جینے کا حق ہے‘۔