Thursday, 30 November, 2006, 11:48 GMT 16:48 PST
ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی اور اقتصادی صورت حال کا جائزہ لینے والی مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ سچّر کمیٹی کی رپورٹ کو آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا گیاہے۔
اس رپورٹ پربحث کے بعد ممکن ہے کہ حکومت مسلمانون کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے کچھ اقدامات کا اعلان کرے۔
رپورٹ کے تیاری کے عمل میں اس وقت تنازعہ پیدا ہوگیا تھا جب سچر کمیٹی نے مسلح افواج میں مسلمانوں کی تعداد جاننے کی کو شش کی تھی ۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے مسلمان سماجی، اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے دوسری برادریوں سے کافی پیجھے رہ گئے ہیں۔
رپورٹ کے سامنے آنے پر ملک گیر پیمانے پر یہ بحث چھڑگئی ہے کہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دیا جائے یا نہیں۔
سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کے ریزرویشن کی سفارش نہیں کی ہے لیکن مختلف شعبوں میں انکی برابر حصہ داری کاذکر کیا ہے ۔
اس ماہ کے وسط میں کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیراعظم من موہن سنگھ کو سونپی تھی۔
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت پر اقلیت نواز ی کا الزام عائد کیا ہے۔