بھارت کی ریاست آسام میں جھڑپوں میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز آسام کے قصبے موئراباری میں ایک ٹریفک حادثے میں ملوث دو نوجوانوں کو پولیس کے حراست میں لینے پر ان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔
سینکڑوں طلباء تھانے کے سامنے اکٹھے ہو کر ان نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایک مقامی کالج کے یونین کونسل کے انتخابات نے ان جھڑپوں میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔
پولیس نے ان طلباء کو منتشر کرنے کی کوشش کی مگر بڑھتا ہوا مجمع مزید بھڑک اٹھا۔ قصبے کے پولیس سٹیشن کو آگ لگا دی گئی۔ ان طلباء کا پولیس سے تنازعہ شدید ہو گیا جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
دوسری جانب پولیس نے فائرنگ شروع کر دی اور چار طلباء مارے گئے۔
اس جھڑپ میں پولیس اہلکاروں سمیت بیس افراد زخمی ہو گئے جن میں سے تین کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ انتظامیہ نےموئراباری میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور مزید پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات ابھی بھی نازک ہیں مگر اب کنٹرول میں ہیں۔ آسام گزشتہ کچھ دہائیوں سے علیحدگی پسند تحریکوں کی زد میں ہے جس کی وجہ سے یہاں کے رہائشی، پولیس کے لوگوں کو حراست میں لینے یا پولیس چوکیوں پر معمول کی چیکنگ پر بھڑک اٹھتے ہیں۔