Thursday, 16 November, 2006, 09:52 GMT 14:52 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حریف سیاسی قوتیں مسئلہ کشمیر کا حل تجویز کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
اس رحجان نے گزشتہ دنوں محاذ آرائی کی شکل اختیار کر لی۔ایک پریس کانفرنس کے دوران ہند نواز نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور ہندوستان کے سابق نائب وزیر خارجہ عمرعبداللہ نےمخلوط اقتدار میں کانگریس کی شریک پی ڈی پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے ’خود حکمرانی کا جو نعرہ بلند کیا ہے، وہ دراصل نیشنل کانفرنس کی خودمختاری سےمتعلق اسمبلی میں منظورکردہ قرارداد کی نقل ہے۔‘
نیشنل کانفرنس نےگزشتہ روز اسی اٹانومی رپورٹ کی کاپیاں نامہ نگاروں میں تقسیم کیں جسے چھ سال قبل نئی دلی میں اس وقت کی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے سرکار نے مسترد کیا تھا۔
تاہم ابھی تک وہ سیلف رول کے خد وخال واضح نہیں کر پائی ہے۔ پی ڈی پی کا اصرار ہے کہ اس کی سیلف رول تجویز پاکستانی صدر جنرل مشرف کی تجویز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، لیکن ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کے لیڈروں نے اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’مشرف کے ایجنڈا پر کام کر رہی ہے۔‘
پی ڈی پی کے جنرل سیکریڑی نظام الدین بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں سینئر لیڈروں کے علاوہ سابق نائب وزیر اعلیٰ اور تجربہ کار قانون دان مظفر حسین بیگ بھی شامل ہیں۔
یہ کمیٹی سیلف رول کی تجویز کو باقاعدہ دستاویزی شکل دے گی۔ جسے ہم ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کے علاوہ عالمی سفارتی برادری کو بھی پیش کریں گے۔‘
گو ریاستی کانگریس جموں کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی علمبردار ہے، اس جماعت کےمقامی لیڈر سمجھتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کی حقیت سے انکار اب ممکن نہیں۔
پارٹی کی ریاستی شاخ کے نائب صدر عبدالغنی وکیل کا کہنا ہے کہ ’تمام آئینی حقائق کو برقرار رکھتے ہوئے ہم ایسے فارمولے پر سوچ رہے ہیں، جس کے تحت تشدد کا جواز قائم نہ رہے۔ اس سلسلے میں (وزیر اعلیٰ ) آزاد صاحب کا خوشحال کشمیر پرپوزل معنی خیز ہے لیکن ہم اس تجویز کو کشمیر کی سیاسی صورتحال کے پس منظر کے ساتھ دستاویزی روپ دے کر پیش کریں گے۔‘
کشمیر کی علیٰحدگی پسند قوتیں فی الوقت تین حصوں میں منقسم ہیں۔ کئی جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے دو الگ الگ دھڑوں کی قیادت سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں۔ شبیر احمد شاہ اور یٰسین ملک وغیرہ ان دونوں دھڑوں سے یکساں دوری پر ہیں۔
سید علی گیلانی کا اصرار ہے کہ کشمیر کا روڑمیپ سن اُنیس سو اڑتالیس اور پچاس کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی گئیں قراردادوں پر مشتمل ہے، جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
سید علی گیلانی کا اصرار ہے کہ جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
ایک اور علیحدگی پسند لیڈر سجاد غنی لون بھی، جنہیں گزشتہ انتخابات میں پراکسی امیدوار کھڑا کرنے کے الزام میں حریت کی رکنیت سے خارج کیا گیا تھا، بھی پچھلے دو ماہ سے کشمیر روڑ میپ بنا رہے ہیں۔
لون کے سیاسی مشیر رشید محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سجادصاحب نے خود ایک ایک پہلو کو سٹڈی کیا۔ وہ چھ ہفتوں تک گلمرگ کے ایک ہوٹل میں روڑ میپ بناتے رہے۔ ہمارے روڑ میپ میں مسئلہ کے داخلی اور خارجی پہلوؤں پر بحث کے علاوہ ایک کریٹیو (فنی) حل تجویز کیا گیا ہے۔
صاحب نے خود ایک ایک پہلو کو سٹڈی کیا۔ وہ چھ ہفتوں تک گلمرگ کے ایک ہوٹل میں روڑ میپ بناتے رہے۔ ہمارے روڑ میپ میں مسئلہ کے داخلی اور خارجی پہلوؤں پر بحث کے علاوہ ایک کریٹیو (فنی) حل تجویز کیا گیا ہے جو آپ کو وقت آنے پر معلوم ہوجائے گا۔‘