Thursday, 16 November, 2006, 14:37 GMT 19:37 PST
جمعرات کو انڈیا کی ریاست پنجاب میں سکھوں کے مذہبی شہر امرتسر کے رہائشیوں کی بڑی تعداد نے بالی وڈ کے ستارے سنجے دت کے لیے کی جانے والی خصوصی دعاؤں میں شرکت کی۔
مشہور فلمی ستارے سنجے دت ، جنہوں نے کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا ہے، ان 123 لوگوں میں سے ایک ہیں جن پر 1993 ببمئی بم دھماکوں کی سازش کا الزام ہے اور وہ ابھی تک عدالت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔
12 مارچ 1993 کو ممبئی میں ہونے والے ان دھماکوں نے ممبئی کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سنجے دت کے لیے کی جانے والی یہ خصوصی دعائیں امرتسر کے سرکٹ ہاؤس میں ان کی بہن پریا دت کی سرکردگی میں کی گئیں اور ان میں ہندو، سکھ ، مسلمان اور عیسائی پادریوں نے شرکت کی۔
اس سے قبل پریا دت سے سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی درگاہ ’گولڈن ٹیمپل‘ بھی گئیں تھیں جہاں انہوں نے اپنے بھائی کے لیے دعائیں مانگیں تھیں جیسا کہ عدالت کا فیصلہ جلد آنے والا ہے۔
مندر کے پادری نے بھی سنجے دت کی کامیابی اور ترقی کے لیے دعائیں کی۔ گولڈن ٹیمپل اور مختلف مذاہب کی مشترکہ دعاؤں میں بات کرتے ہوئے پرنم پریا دت نے کہا کہ وہ اور ان کے باقی خاندان کے لوگ بہت بے چینی سے عدالت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ممبئی دھماکوں کے کیس کی سماعت کا آغاز 1995 میں ہوا تھا اور اس سلسلے میں 656 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔
سنجے دت پر غیر قانونی رائفل رکھنے کا الزام بھی ہے اور اگر ان پر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔