شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں منصوبہ بندی کمیشن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً بارہ فی صد مسلمان بچے سکول نہیں جا پاتے۔ تعلیم میں مسلمان بچوں کی فی صد شرح دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔
مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیئے پلاننگ کمیشن کی تشکیل کردہ ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تقریباً پچاس فی صد مسلم بچے دیہی علاقوں میں اور پچیس فی صد شہری علاقوں میں ناخواندہ رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں میں خواندگی کی شرح تقریباً انسٹھ فیصد ہے جبکہ قومی شرح خواندگی پینسٹھ فیصد ہے۔ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری کی سطح پرتو یہ صورتحال بہت خراب ہے جہاں صرف پندرہ فیصد اور پانچ فیصد بچے ہی داخلہ لے پاتے ہیں۔
مسنمانوں میں سو میں سے صرف تین بچے گریجویشن تک کی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔
تعلیم کی بدترین صورتحال اتر پرددیش، بہار، آسام اور مغربی بنگا ل میں ہے۔
تعلیم کی وزارت نے مسلمانوں کی آبادی والے علاقوں میں ہزاروں پرائمری اور سیکنڈری سکول کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت نے مسلم بچوں کو بھی دلتوں اور قبائلی بچوں کی طرز پر پرائمری اور سیکنڈری درجات میں سکالر شپ دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ وزارت نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ آئندہ برس سے پورے ملک میں مسلم بچوں کی پورے قوائف درج کیئے جائیں گے۔
ہندوستان میں مسلمان اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے دوسری برادریوں کے مقابلے میں کافی پیچھے رہ گئے ہیں ۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لیئے ایک مطالعہ گروپ تشکیل دیا تھا۔ سچر کمیٹی نام کا یہ گروپ اپنی رپورٹ جمعہ کے روز وزیر اعظم کو پیش کرے گا۔ مسلمانوں کی حقیقی صورتحال پہلی بار مکمل اعداد و شمار اور تجزیہ کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے ۔