http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 13 November, 2006, 17:15 GMT 22:15 PST

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

پاک بھارت مذاکرات کا نیا دور

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان ہندوستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے پیر کی شام دلی پہنچ گئے ہیں۔

اپنے تین روزہ دورے کے دوران وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر سمیت مختلف متنازعہ امور پر بات چیت کریں گے۔

ریاض محمد خان کے دورے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانچ ماہ سے معطل ’جامع مذاکرات‘ کا عمل دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ مذاکرات کا عمل ہندوستان میں ’ممبئی ٹرین بم دھماکوں‘ سمیت ہونے والے دہشت گردی کے بعض واقعات کی وجہ سے تعطل کا شکار تھا۔

ہندوستان نے ان دھماکوں کے لیے براہ راست پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا تھا، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا تھا۔ خیال کیا جا رہا کہ منگل سے شروع ہونے والے مذاکراتی عمل میں دہشت گردی کا موضوع غالب رہے گا۔

یاد رہے کہ ہندوستان کی قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے کچھ دن پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے خلاف ثبوت ہیں تو سہی لیکن انہیں ’ٹھوس‘ نہیں کہا جا سکتا۔

دلی پہچنے پر ریاض محمد خان کا کہنا تھا ’میں تعمیری مذاکرات کی امید لے کر آیا ہوں‘۔ باقاعدہ مذاکرات تو منگل کو شروع ہونگے لیکن ریاض محمد خان اور شیو شنکر مینن پیر کی رات کھانے کی میز پر اکٹھے ہوں گے۔

پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے تمام اہم علحیدگی پسند رہنماؤں کو پاکستان کے خارجہ سیکرٹری کے ساتھ بات چیت کی دعوت دی گئی ہے۔

سیاچن کا مسئلہ بھی جامع مذاکرات کا حصہ ہوگا۔ مبصرین کے مطابق سیاچن پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کافی آگے بڑھ چکی تھی لیکن اب ہندوستان کی فوج یہ کہہ رہی ہے کہ سیاچن پر وہ بہتر پوزیشن میں ہے اور اس پر وہ کسی سمجھوتے کے حق میں نہیں۔ ہندوستانی فوج کے اس بیان کا اچھا اثر نہیں لیا گیا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ان بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے ’بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہندوستان کے بعض حلقوں کی طرف سے ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں جو مذاکرات کے دوران بہتر ماحول کے لیے سازگار نہیں ہیں‘۔