Saturday, 11 November, 2006, 18:47 GMT 23:47 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عالم دین پر نماز جمعہ کے دوران قاتلانہ حملے کا اعتراف غلام نبی نامی ایک شخص نے کیا ہے۔
غلام نبی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کام صرف بیس ڈالروں کی خاطر کیااور انہیں ہینڈ گرینیڈ حزب اللہ مجاہدین نے مہیا کیا تھا۔ اس حملے میں تین کمسِن لڑکیوں سمیت پانچ افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
غلام نبی کا کہنا ہے کہ اسے اپنے کیے پر افسوس ہے۔ غلام نبی کو اس علاقے کے رہائشیوں نے بم دھماکے کے فوراً بعد پکڑ کر فوج کے حوالے کر دیا تھا۔
تاہم کشمیری علیحدگی پسند گروہ کے ایک سربراہ کا کہنا ہے کہ اس اعتراف پر یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ فوج نےاس سے زبردستی یہ کہلوایا ہو۔ حزب المجاہدین نے اس حملےمیں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والا حملہ جمعہ کے روز اُس وقت ہوا جب علاقہ کےمعروف عالم دین مولانا عبدالرشید داؤدی ٹہاب نامی بستی کی جامع مسجد میں خصوصی خطبہ کے لیے جارہے تھے۔
فرقہ وارانہ جھڑپوں کے خدشے کے پیش نظر پولیس نے علاقے میں رات کا گشت شروع کر دیا ہے۔
ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے مولانا داؤدی اُن دو مسالک گروپوں میں سے ایک گروپ کے رہنما ہیں جن کے درمیان پچھلے چند ماہ سے محاز آرائی جاری ہے۔ ڈی آئی جی پولیس ایچ کے لوہیا نے بتایا کہ حملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہے، ’تاہم گروپ رائولری‘ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ واضح رہے پچھلے ماہ داؤدی اور دوسرے گروپ کے حامیوں کے درمیان ایک دینی اجتماع کے انعقاد کو لے کر پُر تشدد تصادم ہوا تھا۔
جمعہ کی شام پولیس نے معمول کے اپنے ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا کہ حزب المجاہدین اس حملے کی ذمہ دار ہے۔ لیکن حزب کے ترجمان نے فون کے ذریعے نامہ نگاروں کو بتایا: ’یہ کشمیری مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی انڈین ایجنسیز کی ایک سازش ہے۔‘